|
Thursday, 19 November 2009 07:45 |
واشنگٹن : 30 سال قبل غیر قانونی تارک وطن کی حیثیت سے امریکہ آنے والا راولپنڈی کا مکین ہارون سلیم 61 فیصد ووٹ لے کر امریکی شہر گرینائٹ فالز کا میئر منتخب ہو گیا۔ 54 سالہ ہارون سلیم جو اس وقت ایک بار اور ایک کیفے کے مالک ہیں نے بتایا کہ انہوں نےامریکہ آنے کے بعد لاس اینجلس میں ٹیکسی چلانے کو ذریعے معاش بنایا تاہم بعد ازاں وہ ایک بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ اس عرصہ میں انہوں نے سان فرانسیسکو میں ایک امریکی گرل فرینڈ سے شادی کی تاہم غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کرنے کی مہم شروع ہو جانے کے باعث انہیں ایک اور علاقے کو فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ 1980ءمیں غیر قانونی تارکین وطن کو عام معافی ملنے کے بعد انہوں نے ایک ہوٹل میں مینجر کی حیثیت سے ملازمت اور شادی کر لی، ان کی اہلیہ بشری جو ان کے کام میں برابر کا ہاتھ بٹاتی ہیں سے ایک 11 سالہ بیٹی بھی ہے ۔ ہوٹلوں میں طویل عرصہ ملازمت کے بعد انہوں نے گرینائٹ فالز میں اپنا بار اور کیفے کھولنے کا فیصلہ کیا اور اب اسے کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ ہارون سلیم نے بتایا کہ شروع میں انہیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ چونکہ گرینائٹ فالز میں غیر ملکی نہ ہونے کے برابر ہیں اس لئے انہیں مقامی لوگوں کی طرف سے مخالفانہ رویہ کا سامناکرنا پڑے گا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس سلسلہ میں ان کے تمام خدشات بے بنیاد ثابت ہوئے اور اب بھی اگرچہ مقامی پولیس کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں لیکن عام لوگ بڑی تعداد میں ان کو ان کے کیفے میں آ کر مبارک باد دے رہے ہیں۔ ہارون سلیم نے کہا کہ وہ اپنے خاندانی جھگڑوں سے تنگ آ کر پہلے ایران اور پھر امریکہ آ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ میئر کے انتخابات میں ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اب بھی غیر ملکیوں کیلئے مساوی مواقع کی سرزمین ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں لوگ ہرسال اپنا مقدر بنانے کیلئے امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔
|