|
Sunday, 15 November 2009 15:32 |
واشنگٹن : امریکی حکام نے کہا ہے کہ گو افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ دفاعی نوعیت کا ہے لیکن مزید فوج افغانستان بھیجنے سے بجٹ پر پڑنے والا ممکنہ بوجھ فوجیوں کی تعداد کو کم سے کم رکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سرکاری اندازوں کے مطابق مزید چالیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجنے اور افغانستان کی سکیورٹی فورس میں قابل ذکر اضافے سے، جیسا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل سٹینلے مکرسٹل نے تجویز کیا ہے، امریکی فوج کو چالیس ارب ڈالر سے چون ارب ڈالر سالانہ کا اضافی خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔اگر امریکہ چالیس ہزار سے کم فوجی افغانستان بھیجتا ہے یا ان کے مشن میں کوئی تبدیلی کرتا ہے تب بھی وائٹ ہاوس نے جو فارمولہ بنایا ہے اس کے تحت ایک فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔اخبار کے مطابق اگر صدر اوباما کم فوجی بھی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں تب بھی عراق میں فوجیوں کی تعداد میں کمی سے ہونے والی ممکنہ چھبیس ارب ڈالر سالانہ کی ساری بچت افغانستان پر خرچ ہو جائے گی۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ اس صورت میں امریکہ کے مجموعی دفاعی بجٹ کا حجم734اب ڈالر تک پہنچ جائے گا جو کہ بش انتظامیہ کے دور میں 676ارب ڈالر کے زیادہ سے زیادہ دفاعی بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔اخبار کے مطابق میں ایک ایسے وقت میں جب حکومتی بجٹ بڑھ رہا ہے ، معیشت کمزور ہے اور صدر اوباما ایک مہنگا صحت عامہ کا منصوبہ منظور کروانے کی کوشش میں ہیں دفاعی بجٹ میں اس قدر اضافہ کرنا اوباما انتظامیہ کے لیے انتہائی مشکل ہو گا۔
|