|
Wednesday, 18 November 2009 05:15 |
|
لندن : لندن 2012ء اولمپکس برطانیہ کے لئے جنگ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑا سیکورٹی چیلنج ہے۔ برطانیہ کے سیکورٹی منسٹر ایلن ویسٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے 2012ء کے اولمپکس کے لئے برطانیہ کی تیاریاں اچھی ہیں لیکن یہ گیمز ایسے موقع پر منعقد ہورہے ہیں جب مالیاتی بحران کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ بنکنگ کرائسس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گیمز کے حوالے سے کسی لاپروائی کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور نہ ہی گیمز کے چیلنج کو کم تر سمجھتے ہیں رائل سروس انسٹی ٹیوٹ لندن میں اولمپکس سیکورٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایلن ویسٹ نے کہا کہ گیمز 2012ء میں عالمی رہنماؤں کے علاوہ 5 لاکھ افراد ہزاروں ایتھلٹس حکام شرکت کریں گے جبکہ مقابلے 30 مقامات پر ہوں گے۔ گیمز کے دوران احتجاجی گروپس بھی مظاہرے کریں گے کیونکہ ورلڈ ٹیلی ویژن کوریج کی وجہ سے اربوں افراد اسے دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1972ء میں میونخ اولمپکس میں 11 اسرائیلی کھلاڑیوں کی فلسطینیوں کے ہاتھ ہلاکت کے بعد سے سیکورٹی چیلنج رہی ہے۔ برطانیہ ماضی قریب میں انتہا پسندوں کا ہدف رہا ہے۔ جولائی 2005ء میں چار مسلم شدت پسندوں نے بم دھماکے کئے جن میں 52 افراد موت کے منہ میں چلے گئے یہ دھماکے لندن کو اولمپکس کی میزبانی ملنے کے ایک دن بعد ہوئے تھے۔ اس تناظر میں سیکورٹی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان واقعات کے بعد سے برطانیہ کو دہشت گردی کے خطرات لاحق ہیں اور 2012ء کے اولمپکس تک یہ خطرات بدستور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لندن 2012ء اولمپکس اور پیرالمپکس گیمز برطانوی تاریخ کے عظیم ترین ایونٹ ہوں گے۔
|