|
سائنس و ایجادات
|
|
Tuesday, 03 November 2009 17:35 |
لاہور (خصوصی رپورٹ) ایام سے قبل جب ایک یا دونوں چھاتیوں میں دور محسوس ہو۔ تھکاوٹ پیٹ میں گیس، سر میں درد، مزاج میں تیزی، افسردگی اور چڑ چڑاپن نمایاں ہو تو اسے سنجیدگی سے لیں یہ دراصلPermenstrual Syndrome یا پی ایم ایس ہے۔ یہ علامتیں دراصل خواتین کے جسم میں ہارمونز کا توازن بگڑنے کی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 74 فیصد خواتین ہارمونز کے عدم توازن کا شکار ہوتی ہیں۔ ویمنز نیوٹرشینل ایڈوائزری سروس نے اس حوالے سے دو مرتبہ خواتین کا سروے کرایا۔ پہلی بار 1985ءاور دوسری مرتبہ 1996ءمیں کئے گئے سروے میں معلوم ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پی ایم ایس کی سنگینی بڑھتی جاتی ہے ایام شروع ہونے سے قبل 80 فیصد خواتین میں ایک دم سے موڈ کی تبدیلی، ڈپریشن، فکر، پریشانی اور جارحانہ احساسات نمایاں ہو جاتے ہیں ان میں سے 52 فیصد خواتین پیریڈ سے پہلے کے مرحلے میں ان علامتوں سے اتنی پریشان تھیں کہ خودکشی پر غور شروع کر دیا تھا اس کے باوجود ماہرین کا اصرار ہے کہ پی ایم ایس کوئی بیماری نہیں اور یہ سب خواتین کے اپنے دفاع کی اختراع ہے۔ ویمنز نیوٹرشینل ایڈوائزری سروس کے ڈاکٹر ماریون کا کہنا ہے کہ پی ایم ایس 20 ویں صدی کی بیماری ہے اور اس کی بنیادی وجہ جدید معاشرے میں خواتین کے بدلتے ہوئے کردار کے سبب انہیں اپنی غذائی ضروریات کا ادراک نہ کرنا اور بڑھتا ہوا ذہنی بوجھ ہے اگر خواتین غذا کا خیال رکھیں، ورزش کیلئے وقت نکالیں، ذہنی دباﺅ سے نکلنے کا کوئی متبادل طریقہ تلاش کریں تو صرف 4 ماہ میں یہ کیفیت ختم ہو سکتی ہے۔ جدید دور میں خواتین میں ہارمونز کے غیر متوازن ہونے کی وجہ سے اینڈویئر پوس کی شکایات بھی بہت عام ہو گئی ہیں یہ ایک ایسی طبی کیفیت ہے جس میں رحم کے اندرونی حصے میں تشکیل پانے والے خلیات جسم کے دوسرے اعضاءمیں بھی جنم لینے لگتے ہیں جہاں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ عنفوان شباب میں قدم رکھنے والی لڑکیاں اور عمر کی 20 ویں دہائی میں موجود خواتین میں اس مرض کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔ بار آوری کی عمریں 11 سے 60 سال عمر کی 10 میں سے ایک خاتون میں یہ شکائت دیکھی جاتی ہے اس کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ پیریڈ کے ایام ہیں ان دنوں درد کی شدت سے مریضہ خود کو معذور سمجھنے لگتی ہے معمول کے مطابق زندگی گزارنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے جو خواتین اینڈوئیر پوسیس کا شکار ہوتی ہیں ان میں سے آدھی ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ گلٹیوں سے ہوشیار خواتین میں بریسٹ کینسر سے زیادہ بریسٹ لمپس کی شکائت عام ہوتی ہے یہ چھائیوں میں بننے والی وہ گلٹیاں یا گومڑ ہیں جسے پول سیٹک یا فابٹر و سیٹک کیا جاتا ہے یہ شکائت 25 فیصد خواتین کو زندگی کے کسی مرحلے میں بھی ہو سکتی ہے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ایسی گلٹیاں سرطانی خصوصیات کی حامل نہیں ہوتی ہیں زیادہ تر غیر مضر ہوتی ہیں تاہم ان گلٹیوں کی موجودگی میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور مصیبت بریسٹ لمپس سے زیادہ خواتین میں ایک اور خطرناک خرابی فائبروئڈز کی دیکھی جاتی ہے خواتین کے تولیدی نظام سے متعلق اعضا میں کہیں بھی غیر مضر قسم کی گلٹیاں بن جاتی ہیں جو رحم کی اندرونی دیواروں سے جڑی ہوتی ہیں بعض اوقات ان کا سائز چکوترے جتنا ہوتا ہے ان کی وجہ سے ایام تکلیف دہ اور بے قاعدہ ہو جاتے ہیں بیضے دانیوں میں فائبر ونڈز اور آبلہ نما تھیلیوں کی موجودگی کی وجہ بیضوں کی تشکیل میں فعل تصور کی جاتی ہے اس کی وجہ ہارمونز کا غیر متوازن ہونا ہے۔
|