تصاویر

Login

Online Users




فروری :اہم فیصلوں اور تصادم کا مہینہ PDF Print E-mail
Monday, 08 February 2010 18:55
اسلام آباد : رواں ماہ حکومت کی طرف سے اہم فیصلوں کی توقع کی جارہی ہے ان میں سے کچھ فیصلے بظاہر سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی روشنی میں میں کئے جائیں گے تاہم مبصرین کے خیال میں ان اقدامات سے حکومت اور عدلیہ کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا اگرچہ صدر زرداری نے جسٹس ثاقب نثار کو چیف جسٹس پاکستان کی سفارش پر سپریم کورٹ کا جج بنانے اور نومبر میں چیف جسٹس پنجاب جسٹس خواجہ محمد شریف کو سپریم کورٹ لے جانے پر آمادگی ظاہر کردی ہے تاہم جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو ایڈہاک جج مقرر کرنے کا معاملہ گول کردیا گیا ہے

 

ادھر سرحد سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس سردار محمد رمضان آج مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائرڈ ہو رہے ہیں پنجاب سے تعلق رکھنے والے جسٹس سپریم کورٹ چودھری اعجاز احمد بھی مئی میں مدت ملازمت پوری کررہے ہیں جبکہ 21نومبر کو سندھ سے تعلق رکھنے والے جسٹس رحمت حسین جعفری ریٹائرڈ ہو جائیں گے جسٹس جعفری نے مشرف دور میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو طیارہ سازش کیس میں سزائے موت سنانے سے متعلق شدید مزاحمت کی تھی بتایا گیا ہے کہ حکومت اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کے لئے بعض اہم نوعیت کے سیاسی اقدامات کرنے جا رہی ہے نواز لیگ سے تعلقات بہتری کے لئے 17ویں ترمیم میں بعض اہم نوعیت کی ترامیم کی جارہی ہیں صدر زرداری کی طرف سے 58ٹو بی کے اختیارات سے دستبرداری بھی متوقع ہے وکلاءمیں جگہ بنانے اور مستقبل قریب میں کسی ممکنہ محاذ آرائی کی صورت میں وکلاءکی حمایت حاصل کرنے کے لئے حکومت پبلک ڈیفنڈر کے نام سے نیا ادارہ قائم کرے گی جس کے ذریعے غریب شہریوں کو مفت قانونی امداد فرانہم کی جائے گی

اس ادارہ میں بھرتی کے لئے پیپلزپارٹی کے وکلاءکی فہرستیں تیار کی جارہی ہیں اسلام آباد کے وکلاءکی حمایت حاصل کرنے کے لئے حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ بحال کرنے کا بھی فیصلہ بھی کر چکی ہے رواں ماہ یہی احتساب کا نیا نظام بھی نافذ کیا جارہا ہے جس کی تیاری مکمل ہے وزیراعظم اس سلسلے میں نواز شریف کی مشاورت سے نئے چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل کا تقرر کریں گے آئینی پیکج کے تحت چیف الیکشن کمشن کی مدت ملازمت چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کی جارہی ہے آئینی شقوں کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ کے اختیار بارے بھی پیش رفت کی توقع ہے اس حوالے سے صدر کو حاصل استثنیٰ کا ابہام دور کیا جائے گا جس کے بعد صدر زرداری عدالتوں میں جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.