|
Friday, 20 November 2009 12:17 |
نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ پاکستان ممبئی حملے کے سلسلے میں اپنی تفتیش اور مقدمہ کی کارروائی میں ذرا تیزی سے کام لے امریکی شہری ڈیود ہیڈلی کے متعلق پوری تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے شاہ محمود قریشی سے گزارش کی ہے کہ پاکستان گزشتہ برس اسی ماہ میں ممبئی پر ہوئے حملوں کی تفتیش اور مقدمہ کی کارروائی کی رفتار تیز کرے۔ اطلاعات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اس سے متعلق تفتیش اور مقدمہ کی تفصیلات بتائی ہیں اور انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت نے جو بھی ثبوت فراہم کیے ہیں انہیں عدالت میں پیش کیا جائیگا۔ ممبئی حملوں سے متعلق بھارت نے اب تک پاکستان کو سات ڈوزیئر دیے ہیں جس میں ایسے ثبوت فراہم کیے گئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے تھا۔ نئی دہلی واپس آنے پر صحافیوں سے بات چیت میں ایس ایم کرشنا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ امریکی شہری ڈیود ہیڈلی کے متعلق پوری تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس بارے میں کیا کارروائی ہوگی اور کیا کرنا ہے اس سب کا انحصار تفتیش پر مبنی ہے جو ابھی چل رہی ہے۔
|