|
Tuesday, 03 November 2009 15:21 |
جنوبی وزیرستان : جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 21شدت پسند ہلاک دو گرفتار ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے سکیورٹی فورسز نے سراروغہ اور آس پاس کے علاقوں کو محفوظ کرلیا ہے اور سکیورٹی فورسز نے آگے جنتہ کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے کہا ہے کہ حکمت عملی کے تحت علاقے کو خالی کردیا جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار پورے علاقے میں داخل ہوجائیں گے تب ہی وہ گوریلا جنگ شروع کریں گے۔مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق جنڈولہ سراروغہ محور میں سراروغہ کے علاقے میں آپریشن جاری ہے اور مختلف جھڑپوں میں16شدت پسند مارے گئے اور ایک سکیورٹی اہلکار شہید ہوگیا ، جبکہ دو شدت پسند گرفتار کرلئے گئے ، شکئی کنی گرام محور پر کارروائیاں جاری ہیں اور کنی گرام کا علاقہ مکمل طورپر کلیئر کرالیا گیا ہے ۔ مختلف علاقوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے ۔دوسری جانب گھانی خیل میں بھی علاقہ کلیئر کرانے کا عمل جاری ہے ۔ رزمک مکین محور پر چائنا سے میاں نور خیل تک کا علاقہ کلیئر کرالیا گیا ہے ۔ سکیورٹی فورسز نے منزا سر ٹاپ پر اپنی پوزیشنیں مضبوط کرلی ہیں۔ ترجمان کے مطابق سوات اور مالاکنڈ میں جاری آپریشن راہ راست میں 21شدت پسند گرفتار کرلئے گئے جبکہ 10نے ہتھیار ڈال دیئے ، پیوچار کے مختلف علاقوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق متاثرین وزیرستان کے 679خاندان بلوچستان کے ضلع ڑوب میں آباد کئے گئے ہیں اور مجموعی طورپر متاثرین میں 7326کیش کارڈز تقسیم کئے گئے ہیں۔جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق آپریشن راہ نجات میں سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی جاری ہے سام اور مکین کے علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
|