خوش آمدید
سالانہ پانچویں سہہ روزہ عالمی اردو کانفرنس 2008ءشکاگو
بتاریخ: 6,5 اور 7 دسمبر
بمقام: ہالی ڈے ان ۔ رولنگ میڈو
Holiday-In
3405- Algonquin Rd
Rolling Meadows - IL 60008 - USA
اس کانفرنس میں نئی بستیوں میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے اُجاگر ہونے والے مسائل کے ساتھ ساتھ ہمارے موروثی کلچر اور نئی بستیوں میں مروجہ کلچر سے تصادم کے نتیجے میں ابھرنے والے مسائل پر تبادلہخیال کیا جائے گا تاکہ ہماری نئی نسل کی سوچ اور فکر میں ہماری زندہ اور صحت مند روایات کا تسلسل قائم رکھنے کے معاملات پر بھی غورو خوص کیا جائے۔ اس کانفرنس میں 8 موضوعات چنے گے ہیں ہر موضوع پر الگ الگ اجلاس ہوں گے۔ ہر اجلاس کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹہ پر مشتمل ہو گا ہر نشست کا ایک صدر ایک مہمان خصوصی اور دو یا تین مقالہ نگار ہوں گے۔ مقالہ پڑھنے والے اپنے لکھے ہوئے مقالے کا 15 منٹ کا خلاصہ پیش کریں گے مکمل مقالے کی کاپی شرکاءاجلاس کو اجلاس کے دوران دے دی جائے گی۔ مقالات پڑھے جانے کے بعد سوال و جواب اور مباحثے کیلئے 30 منٹ مخصوص ہوں گے پھر مہمان خصوصی اور صدر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
رجسٹریشن:
کانفرنس میں شرکت کرنے والے آن لائن رجسٹریشن کروا سکتے ہیں اور آن لائن سے رجسٹریشن فارم بھی پرنٹ کیا جا سکتا ہے۔ رجسٹریشن فارم کو پُر کر کے میل بھی کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس سے پہلے ہوٹل کی لابی میں رجسٹریشن ڈیسک موجود ہو گا جہاں پر رجسٹریشن فارم پُر کئے جا سکتے ہیں۔ داخلہ تمام اجلاسوں میں مفت ہو گا رجسٹریشن ڈیسک پر کانفرنس کے اوقات اور تفصیلات دستیاب ہوں گی۔
ہوٹل کی بکنگ:
دوسرے شہروں سے کانفرنس میں شرکت کیلئے آنے والے مہمانوں کی رہائش کیلئے خصوصی رعایت پر کمرے مہیا کئے جائیں گے۔ مہمانوں سے گزارش ہے کہ کانفرنس سے پہلے کمرہ بک کروا لیں تاکہ کانفرنس میں شرکت کیلئے ہوٹل میں ان کا قیام یقینی ہو سکے۔
پروگرام:
5 دسمبر دوپہر دو بجے ہوٹل کی لابی میں رجسٹریشن اور انفارمیشن سینٹر کھل جائے گا۔ مندوبین اور مہمانوں کو معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن کا کام بھی جاری رہے گا۔ افتتاحی اجلاس شام 5 بجے شروع ہو گا جس میں شمع جلا کر کانفرنس کا افتتاح کیا جائے گا۔ کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر منتظمین اظہار خیال کریں گے تمام اجلاسوں کے موضوعات اور ہر اجلاس کے صدر اور مقالہ نگار وںکے بارے میں معلومات دی جائے گی۔ اس کے بعد کھانے کا وقفہ ہوگا اس کے بعد محفل موسیقی کا انعقاد جو رات دیر گئے تک جاری رہے گا۔
5 دسمبر بروز جمعہ 4:30 بجے شام
افتتاحی اجلاس
استقبال، تعارف، توجیحات
صدارت: ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
نظامت: ڈاکٹر عابد اللہ عابدی
شام غزل
6 دسمبر 2008بروزہفتہ9:30 ۔11بجے صبح
موضوع: نئی بستیوں میں اردو زبان کے عصری تقاضے
اردو کی نئی بستیاں کیا ہیں؟ کیا انہیں مغربی نئی بستیوں اور مشرقی نئی بستیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہے تو کس طرح اس معیار پر تقسیم شدہ بستیوں میں کیا اردو کے عصری تقاضے بدل جاتے ہیں؟ کیا اردو زبان و ادب نئی بستیوں میں کسی ضرورت کی تکمیل ہے اگر ہے تو کس طرح اور نہیں تو کیوں؟ مغرب اور مشرق کی نئی بستیوں میں اردو زبان مقامی زبان اور کلچر سے کس حد تک مصالحت کر سکتی ہے۔ عصر جدید میں مواصلاتی ذریعہ سے اردو زبان کس قدر ہم آہنگ ہے اور اس کا کیا مستقبل ہے بقیہ وہ تمام فکر و خیال جو مقالہ نگار پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وقفہ برائے چائے .... آدھا گھنٹہ
6 دسمبر 2008بروزہفتہ
دوسرا اجلاس 11:30 دن سے ایک بجے
موضوع: اردو کی نئی بستیوں میں ذرائع ابلاغ کا کرار
ذرائع ابلاغ کا مختصر تعارف اور تاریخی جائزہ اردو زبان کن ذرائع ابلاغ سے زیادہ مانوس رہی ہے۔ جدید برقیاتی، طباعتی اور تصویری۔ ذرائع ابلاغ میں اردو کا مقام اور مستقبل
کے امکانات، بقیہ وہ تمام فکر و خیال جو مقالہ نگار پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وقفہ برائے لنچ : 1:00 بجے تا 2:00 بجے دوپہر
6 دسمبر 2008بروزہفتہ
تیسرا اجلاس 2:00 بجے دوپہر ۔ 3:30
موضوع: نئی بستیوں میں اردو تخلیقی ادب کا جائزہ
نئی بستیوں میں اردو تخلیقات کا ایک سرسری جائزہ اور ان کا ادبی مقام۔ نئی بستیوں کے تخلیقی ادب پاروں کا اسلوب و رحجان، کیا نئی بستیوں کے ادیبوں نے نئے تجربے پیش کئے یا روایتی ڈگر پر چلتے رہے۔ نئی بستیوں میں کوئی ایسا ادیب و ادب پارہ جسے آفاقی و دائمی قرار دیا جا سکے۔ نئی بستیوں کے ادیبوں نے زبان، شعر و ادب و ثقافت سے کس حد تک تاثر قبول کیا اور اس کی ترجمانی کی؟ قلم کاروں کے بنیادی مسائل کیا ہیں۔ نئی بستیوں کے ادیبوں نے مقامی شعر و ادب اور ثقافت، تخلیقی ادب و فن کی نشر و اشاعت کا جائزہ اور ان کے فروغ کی تجاویز، بقیہ وہ تمام فکر و خیال جو مقالہ نگار پیش کرنا چاہتے ہیں۔
6 دسمبر 2008بروزہفتہ
چوتھا اجلاس 4:00 بجے سے 5:30 بجے تک
موضوع: اردو زبان اور اس کی ثقافت کو نئی نسل سے جوڑنے کی منصوبہ بندی
رہائش، گفتگو، لباس، بود و باش اور زندگی کے روزمرہ معمولات میں کیا کوئی ایسا امتیازی رنگ ہے جس کی بنا پر اردو ثقافت کی شناخت ہو سکے اگر ایسی کوئی شناخت نہیں تو کیا ایسی شناخت پیدا ہونی چاہئے؟ اور اگر ہے تو کیا اس کا تسلسل اہم ہے؟ نئی نسل کو ایسی اردو ثقافت سے جوڑنے کی کوشش ہونی چاہئے؟ اور کیا یہ کوشش سماجی بنیاد پر مفید بھی ہے؟ نئی بستیوں میں تارکین وطن کو اردو ثقافت نئی نسل تک منتقل کرنا ان کی اجتماعی حیثیت اور تشخص کے لئے مددگار ہے یا نہیں۔ کیا نئی نسل اردو ثقافت کو قبول کرنے پر آمادہ ہے اور اگر نیم آزمادہ ہے تو کیا کوئی مصالحت کی تیسری راہ نکالی جا سکتی ہے۔ بقیہ وہ تمام فکر و خیال جو مقالہ نگار پیش کرنا چاہتے ہیں۔
6 دسمبر 2008بروزہفتہ
عالمی مشاعرہ: 8 بجے شام
7 دسمبر 2008بروز اتوار
پہلا اجلاس 9:30 صبح سے 11 بجے
موضوع: نئی بستیوں میں اردو تعلیم کی ضرورت اور منصوبہ بندی
کیا نئی بستیوں میں عام تارکین وطن اور ان کی نئی نسل کو اردو کی تعلیم کی طرف ترغیب دلائی جا سکتی ہے بالخصوص امریکہ میں اردو کی بنیادی تعلیم کے امکانات کیا اسی طرح موجود ہیں جیسے چینی، کوریائی اور ہندی بیرونی زبانوں کے لئے ہیں۔ کیا اردو کو امریکی اسلامی مدارس میں ذریعہ تدریس ہونا چاہئے؟ امریکی تعلیمی اداروں میں اردو کو اختیاری زبان کی حیثیت سے متعارف کرانے کے امکانات کیا ہیں۔ امریکی جامعات، کتب خانوں اور دوسرے سرکاری اداروں میں بیرونی زبان کی حیثیت سے اردو کی ترویج کا جائزہ بقیہ وہ تمام فکر و خیال جو مقالہ نگار پیش کرنا چاہتے ہیں۔
7 دسمبر 2008بروز اتوار
دوسرا اجلاس دوپہر 11:30 سے 1 بجے
موضوع: تارکین وطن کی پہلی اور نئی نسل کے اختلافی مسائل کا جائزہ
نقل مکانی کرنے والی پہلی کھیپ اور اس کی دوسری پیڑھی کے درمیان بنیادی اختلافات کیا ہیں۔ یہ اختلافات جس تصادم کا سبب ہیں انہیں ہموار کرنے کی تدابیر کیا ہیں۔ دونوں پیڑھیوں کے درمیان اہم مشترک اقدار کیا ہیں؟ مصالحت کے ساتھ فروغ کی راہ کیا ہو سکتی ہے۔ بقیہ وہ تمام فکر و خیال جو مقالہ نگار پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وقفہ برائے لنچ : 1 بجے سے 2 بجے تک
یادِ رفتگان .... 2 بجے سے 3:30
بجے سے 5:30 4 نئی نسل کے تخلیق کار / ایک تعارف ایک پیشکش
میوزیکل نائٹ: 8 بجے
٭٭٭٭٭٭٭