سینیٹرساجد میر سے ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری کی ملاقات
سینیٹر پروفیسر ساجد میر سے ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری کی ملاقات‘پاکستان کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (این این آئی )مرکزی جمعیت اہل حدیث
پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر سے ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری کی
ملاقات‘ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز ایرانی سفیر نے پروفیسر ساجدمیرسے تفصیلی ملاقات
کی جس میں پاکستان کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس
موقع پر پروفیسر ساجد میر نے کہاکہ مسلم دنیا کو سامراجی قوتوں کے مقابلے میں متحد
ہوجانا چاہئے۔ اسلامی ممالک کو اپنے دفاع کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ایٹمی توانائی
کے حصول کےلئے کوشش کرنی چاہئے یہ ان کا بنیادی حق ہے تاکہ طاقت کا توازن قائم
رہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ دہشت گردی کے فروغ کا ایک سبب ریاستی دہشت گردی ہے جس کے
خاتمے کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہاکہ آزادی اور بنیادی انسانی
حقوق سے محروم رہنے والے خطے اورعوام کو جب تک انصاف نہیں ملے گا مزاحمت کا سلسلہ
جاری رہے گا۔ جب تک فلسطینیوں اور کشمیریوں کو آزادی نہیں مل جاتی‘ عراق اور
افغانستان سے قابض افواج کا انخلاءنہیں ہو جاتا اس وقت تک دنیا میں امن کے قیام کی
ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حکومت پاکستان خطے میں امریکی
ایجنڈے کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے اور وہ روزانہ میزائل حملوں کے ذریعے ہماری
خودمختاری کو چیلنج کر رہا ہے۔ ایرانی سفیر کے ا ستفسار پرپروفیسر ساجد میر نے کہا
کہ ایم ایم اے کے ٹوٹنے پر دینی حلقوں کو مایوسی ہوئی۔ بدقسمتی سے اس کے بنانے
والوں نے ہی اسے توڑ ڈالا۔ میر ے نزدیک قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن اس
اتحاد کوتوڑنے میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم اس کی بحالی چاہتے
ہیں اور دینی قوتوں کو سیکولر قوتوں کے مقابلے میں ایک دیکھنا چاہتے ہیں مگر ایسے
ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور مستقبل قریب میں اتحاد کی کوئی شکل بنتی نظر نہیں آرہی
ہے۔ ماشاءاللہ شاکر ی نے اس موقع پر کہا کہ ہم پاکستان کو اسلامی دنیا کی مضبوط
اور متحد طاقت دیکھنا چاہتے ہیں اس مقصد کے لئے دینی جماعتوں کا آپس میںا تحاد
ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں میری تمام دینی قیادت سے بھی یہ استدعا ہے کہ وہ باہمی
اختلافات بھلا کرمتحد ہو جائیں کیونکہ اسلامی اقدار کو شدید خطرات لاحق ہیں اور
دشمنوں کی اسلام کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ دونوں رہنماﺅں نے دہشت گردی کے خاتمے
کے لئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور نئے امریکی صدر سے امید ظاہر کی کہ وہ امریکہ
کی سابقہ پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے
اور اسی میں امریکہ کی بہتری ہے۔