ڈاکٹر عافیہ کیس عالمی عدالت میں لے جانے کی درخواست خارج
درخواست کی سماعت ہورہی ہے، وزارت خارجہ کا جواب سنے بغیر معاملہ لے جانے کا حکم نہیں دے سکتے: چیف جسٹس
امریکی جج کے ریمارکس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عافیہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا: فوزیہ صدیقی
اسلام آباد/کراچی (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد ہائیکورٹ
نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کے
حوالے سے دائر درخواست خارج کردی۔ درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال کی جانب سے
دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے کی۔ بیرسٹر جاوید اقبال نے
اپنے دلائل کے دوران موقف اختیار کیا کہ عدالت عالیہ نے وزارت خارجہ کو 3 نومبر تک
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کیلئے اقدامات کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی جس میں ایک
ہفتہ بڑھایا گیا تاہم وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے
لہٰذا فاضل عدالت مقدمے کو عالمی عدالت انصاف لے جانے کی اجازت دے جس پر فاضل چیف
جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ
پہلے ہی ایک درخواست کی سماعت کررہی ہے اور وزارت خارجہ سے جواب آنا ابھی باقی ہے۔
انہیں سنے بغیر عدالت عالیہ اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف کے پاس لیجانے کا حکم نہیں
دے سکتی۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ امریکی جج کے ریمارکس
اور بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پر بدترین تشدد کیا گیا۔ دریں اثنا
امریکہ میں عافیہ کے وکلاءنے کہا ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دائر کررہے ہیں کہ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی حالت ایسی نہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے ان کا فوری ذہنی
اور جسمانی علاج کرایا جائے۔