|
اردوٹائمز(نیوز) وکلاءرہنماﺅں نے کہا ہے کہ جب تک تمام جج بحال نہیں ہوتے اور عدلیہ آزاد نہیں ہوتی وکلاءتحریک جاری رہے گی۔ پیپلز پارٹی غیر منتخب لوگوں سے جان چھڑائے جو اسے انتشار کی طرف لے جا رہے اور اسے برباد کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے معزول ججوں کے نیا حلف اٹھانے اور پرویز مشرف کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات پر اسکے خلاف آئین کے آرٹیکل6کے تحت مقدمہ چلانے کی قرار دادیں منظور کرلی گئیں۔یہ قراردادیں گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار کے اجلاس میں منظور کی گئیں ۔اس موقع پر خالد اعوان ¾ سید صداءعباس ¾ صفدر خان ¾ ولی محمد خان ¾ نثار صفدر ¾ اللہ بخش گوندل ¾رانا اسد اللہ خان ¾ میاں اسلم اور احمد اویس و دیگر نے خطاب کیا جبکہ اجلاس میں وکلاءکی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔جن میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاءبھی موجود تھے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی ہم پیپلز پارٹی کو بے نظیر بھٹو کا وہ عزم کہ وہ افتخار محمد چوہدری کو ہی اپنا چیف جسٹس تسلیم کرتی ہیں اور خود انکے گھر پر پاکستان کا جھنڈہ لہرایں گی ۔ہم یہ وعدہ پیپلز پارٹی کو یاد دلاتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ خدا را ¾ پیپلز پارٹی غیر منتخب لوگوں فاروق ایچ نائیک ¾ شریں رحمان اور رحمن ملک جیسے لوگوں سے جان چھڑائے کیونکہ یہ پیپلز پارٹی کو انتشار کی طرف لے جا رہے ہیں جو پارٹی کو برباد کر رہے ہیں ۔وہ پیپلز پارٹی جس نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی ہے وہ اسے اسکی مخالف سمیت دھکیل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر آج عدلیہ آزاد ہوتی تو بلوچستان میں 5 خواتین زندہ درگور نہ ہوتیں اور نہ ہی کوئی اس ملک سے زیادتی کر سکتا تھا۔ لاہورہائیکورٹ بار کے نائب صدر میاں محمد اسلم نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لئے تحریک جاری رہے گی ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ ججوں کو جلد از جلد بحال کریں۔ لاہورہائیکورٹ بار کے سابق صدر احمد اویس نے کہا کہ پرویز مشرف کے 3نومبر کے فیصلے کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ پوری پارلیمنٹ کو اس میں ملوث کر کے اسکے اقدام کو آئینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام ججوں کی بحالی تک تحریک جاری رہے گی ۔یہ کسی ایک لیڈر کے چلانے سے نہیں چلی تھی اور اب بھی ایسے ہی چلتی رہے گی ۔گجرات بار کے عہدیدار سید صدا عباس نے کہا کہ میرا خود پیپلز پارٹی سے تعلق ہے لیکن میں پارٹی سے اس بنیاد پر اختلاف کرتا ہوں اور اسی لئے ہم نے حکومتی گرانٹ کا چیک واپس کر دیا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات کیوں نہیں پورے کئے جا رہے ۔انہوں نے گزشتہ اجلاس کے موقع پر مائیک کےلئے ہونے والی چھینا جھپٹی اور ہلڑ بازی کی بھی مذمت کی ۔مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ولی محمد خان نے کہا کہ وکلاءکو کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے بلکہ انہیں لیڈ کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے اچھی بات ہے لیکن اسے مناسب طریقے سے کیا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ روٹی کپڑا اور مکان ہمارا نہیں پیپلز پارٹی کا نعرہ ہے ۔اور اسے اس کےلئے اقدامات بھی کرنے چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جو ججوں کی بحالی کے مطالبات پورے نہیں کرئے گا وہ سب کے سامنے عیاں ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا سیاسی جماعتوں سے ہدایات لیکر وکلاءکے ساتھ باہم دست و گریباں ہونا شرمناک بات ہے ۔نثار صفدر نے کہا کہ تحریک پروفیشنل ہے ¾ اگر اس سے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان پہنچتا ہے تو ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ججوں کو حکومت کے تابع نہیں ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بار تقسیم ہو گئی ہے وہ غدار ہیں۔چیف جسٹس افتخا رمحمد چوہدری انصاف کا سمبل ہیں ۔ہم ججوں کو بحال کروانے نہیں بلکہ عدلیہ کو آزاد کروانے کےلئے نکلے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول تک جنگ جاری رکھیں گے ۔اللہ بخش گوندل نے کہا کہ چند لوگوں کے پیچھے ہٹنے سے تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ہمیں پیپلز پارٹی کے دوستوں کے پیچھے ہٹنے پر افسوس ہے لیکن وہ آئیں اور ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں ۔اس موقع پر فاروق ایچ نائیک کے اس بیان کی بھی شدید مذمت کی گئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کے بعد چیف جسٹس نہیں بلکہ بطور سپریم کورٹ کے جج کے کام کرنا ہوگا ۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری رانا اسد اللہ خان نے اس موقع پر وھاں بیٹھے پیپلز پارٹی کے وکلاءسے کہا کہ وہ دوست آئیں اور اپنے اس پارٹی موقف کی وضاحت کرنا چاہیں تو کریں کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پرآئین خاموش ہے ۔انہوں نے کہا کہ کاظم خان اور آذر لطیف جو پچھلے اجلاس میں بات کرنا چاہتے تھے اگر چاہیں تو آکر بات کر سکتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی وکلاءسے خطاب کے لئے آگے نہیں بڑھا جس پر” نو آنسر ¾نو آنسر “ کے نعرے بلند ہونے لگے ۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ بار کے نائب صدر میاں اسلم نے قرار داد پیش کی جس میں لاہور ہائیکورٹ کے نیا حلف اٹھانے والے ججوں کی مذمت کی گئی اور کہا گیا تھا کہ 12اکتوبر99ءکا اقدام غیر قانونی و غیر آئینی تھا۔3نومبر کو پرویز مشرف نے جعلی ریفرنڈم کروایا ¾ پاکستان کے ہوائی اڈے امریکہ کو دیکر اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا ¾ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا اور انکی تذلیل کی گئی ¾9مارچ کو صدارتی ریفرنس ¾ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی ¾ 12مئی کے واقعات ¾روشن خیالی اور3نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ جیسے اقدامات پر انکے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت ٹرائل ہونا چاہیے ۔اور 3نومبر کی عدلیہ کو بحال کیا جانا چاہیے ۔یہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔
|
|