|
اردو ٹائمز(نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کی حکومت نے وعدے توڑنے اور عوامی مسائل حل نہ کرنے کی پالیسی جاری رکھی تو وہ اپنی مدت پوری کرنے سے بہت پہلے ٹوٹ جائے گی،حکمران قیادت تیزی سے عوام کا اعتماد کھو رہی ہے،پنجاب حکومت گرانے کی کوشش سے جمہوری نظام مزیدعدم استحکام کا شکار ہوجائے گا،شک ہے کہ آصف علی زرداری سترہویں ترمیم ختم نہیں کریں گے ،صد ارتی انتخابات میں فی الحال کسی کی کامیابی کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، ہمیں پولنگ کے دن کا انتظار کرنا ہو گا، قومی اسمبلی کا انتخاب لڑوں گا،فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے ، قبائلی علاقوں میں امریکی پالیسیوں کی اندھی تقلیدنہ کی جائے،پرویزمشرف کا احتساب ہوناچاہیے۔خلیجی اخبار گلف نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں حکمران اتحاد سے علیحدگی پر کوئی افسوس نہیں ہے لیکن ہمیں حیرت اور مایوسی ضرور ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وعدے توڑ کر میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ۔یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ اس سطح پر بھی وعدوں کی پاسداری نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کا حکمران اتحاد میں واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ حالات اب اس نقطے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی قومی مفادات کی قیمت پر عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ معزول ججوں کو بحال کرنے کے بجائے چند مخصوص ججوں کو چن کر انہیں نیا حلف اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو ایک غلط اقدام ہے ۔عدلیہ کو تقسیم کرنے اور اسے سیاسی رنگ دینے کی اس پالیسی سے ادارے کو نقصان پہنچے گا ۔ملک میں عدلیہ آزاد ہونی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر ترقی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کےلئے سنجیدگی پر مبنی رویہ اورایک مثبت راہ اپنانی چاہئے اس کے علاوہ ہمیں معاشی‘ سیاسی‘ سماجی اور آئینی معاملات کو بھی حل کرنا ہو گا۔ ہم نے حکمران اتحاد میں شمولیت کے وقت ملک کو درپیش بحرانوں پر قابو پانے کےلئے ایک ایجنڈا تیار کیا تھا ۔اگر آصف علی زرداری اس ایجنڈے پر عمل کرتے تو اب تک ملک کے حالات تبدیل ہوچکے ہوتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وہ ملک میں قبل ازوقت عام انتخابات کے بجائے جمہوریت کی مضبوطی چاہتے ہیں لیکن اگر قبل ازوقت انتخابات ہوئے تو یہ موجودہ حکومت کے گورننس کے طریقہ کار کی وجہ سے ہوں گے ۔مخلص دوستوں کو کنارے لگانے‘ آزاد عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم نہ کرنے سے یقیناً حکومت کوکوئی مدد نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ وہ حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرنا چاہتے لیکن اگر حکمران قیادت نے وعدے توڑنے اور عوامی معاملات کو نظرانداز کرنے کی پالیسی جاری رکھی تو حکومت اپنی مدت پورے کرنے سے بہت پہلے ہی گر سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر حکمران اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں علیحدگی کا فیصلہ کرلیں تو پیپلزپارٹی کو اپنی حکومت بچانے کےلئے پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت بھی میسر نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ وہ فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث نہیں کرنا چاہتے ان کا واحد ایجنڈا ایک جمہوری پاکستان ہے جس کےلئے فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں بہت سی پریشا نیاں اٹھائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر پیپلزپارٹی نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے کی کوشش کی تو ہمیں جمہوری طریقے سے اپنے دفاع کا حق حاصل ہو گا ۔اس کوشش سے ملک میں بحران مزید سنگین ہو جائے گا جو نہ صرف ملک بلکہ جمہوری عمل کےلئے کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدارتی انتخابات لڑنے کے عزم پر قائم ہیں۔ ہماری پا رٹی سابق چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی کی صورت میں ایک آزاد امیدوار سامنے لائی ہے جنہوں نے ایک فوجی آمر کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے کاز کےلئے جنگ لڑی۔ آصف علی زرداری کی صدارتی انتخابات میں متوقع کامیابی کے با رے میں ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ وہ کسی بھی چیز کی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتے ۔صدارتی انتخابات میں کچھ بھی ممکن ہے کیونکہ ہم ایک قابل احترام آزاد امیدوار کو سامنے لائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خفیہ رائے شماری میں کوئی پیش گوئی ممکن نہیں ہوتی ہم ایک اچھے مقابلے کی توقع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا ذہنوں میں یہ شک پیداہورہاہے کہ آصف علی زرداری سترہویں ترمیم ختم نہیں کریں گے ۔صدر کو سترہویں ترمیم کے تحت پارلیمنٹ کو توڑنے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے اور وزیراعظم کو ہی ملک کے اصل چیف ا یگزیکٹو کے فرائض سرانجام دینے چاہئیں مگر وعدے توڑے جانے کے باعث آصف علی زرداری سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ان کی سابق صدر پرویز مشرف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے اور وہ کوئی ذاتی انتقام نہیں لینا چاہتے تاہم پرویز مشرف کے تمام اقدامات کو واپس لے کر انہیں احتساب کے کٹہرے میں لایاجاناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ مجھے اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ مشرف ملک کے اندر رہتے ہیں یاملک سے باہررہتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ہی مسئلے کا حل ہے ؟نوازشریف نے کہا کہ حکومت کو آنکھیں بند کرکے امریکی پالیسیوں پر عمل کرنے کے بجائے اس معاملے سے نمٹنے کیلئے خود پالیسی بنانی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں کے مسائل بندوق کی نوک پر حل نہیں کئے جاسکتے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کو پالیسی تشکیل دینی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہم مختلف ملکوں کی تشویش کو سمجھ سکتے ہیں مگر پاکستان کےلئے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے کیونکہ ہمارا ملک بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں تمام متعلقہ فریقین سے بات چیت کرنی چاہئے۔ این این آئی کے مطابق مسلم لےگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے وعدے توڑنے اور عوام کے مسائل حل نہ کرنے کی کی پالیسی جاری رکھی تو اپنی مدت پوری کرنے سے بہت پہلے ٹوٹ جائےگی۔ ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر جلد پارلیمنٹ میں پہنچوں گا۔ نوازشریف نے کہا کہ وہ اس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے کیونکہ یہ حکومت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بہت جلد عوام اور قائدین کا اعتبار کھودےگی۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت میں واپسی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور مسلم لیگ (ن) جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو صدارتی انتخاب سے دستبردار نہیں کرائےگی۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف سے ذاتی دشمنی نہیں تاہم انہیں اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے۔
|
|