نائیک نے پارٹی قربانیوں کی نفی کر دی:ترجمان جسٹس افتخار
نائیک نے پارٹی قربانیوں کی نفی کر دی:ترجمان جسٹس افتخار
اردو ٹائمز( نیوز)وکلاءتحریک کے رہنما اور جسٹس افتخار چودھری کے ترجمان اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ججز کا حلف اٹھانا افسوس ناک ہے۔ انہوں نے دباﺅ کے تحت ایسا کیا ہے فاروق ایچ نائیک نے پیپلز پارٹی کی قربانیوں کی نفی کر دی ہے سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے الگ ہونے سے وکلاءتحریک پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اطہر من اللہ نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سندھ ہائی کورٹ میں ججز کا حلف اٹھانا انتہائی افسوس ناک قدم ہے تاہم یہ اقدام ہر انسان کے اپنے ضمیر کی آواز ہے انہوںنے کہاکہ 61سالہ تاریخ میں حکمران طبقے نے کبھی بھی اصولوں کو نہیں اپنایا اور صرف اپنے مقاصد اور ذاتی مفادات حاصل کئے نو مارچ کے بعد معاشرے میں تبدیلی آئی اورایک طبقے نے اصولوں کی خاطر آواز اٹھائی ۔ اور عوام نے اس وکلا ءطبقے سے امیدیں باندھ لیں کہ یہ طبقہ اصولوں پر چلے گا اور ملک کو بھی لیکر چلے گا انہوںنے کہاکہ سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے حلف اٹھا کر ان اصولوں کی نفی کی ہے جن اصولوں کی خاطر ان ججوں نے تین نومبر کو حلف اٹھا نے سے انکار کیا تھا اطہر من اللہ نے کہاکہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید کی جماعت کی قربانیوں کی نفی آج فاروق ایچ نائیک نے کردی ہے کیونکہ وہ کافی عرصہ سے ججوں کے پیچھے پڑے تھے کہ یہ جج حلف اٹھائیں تاکہ صدر مشرف کے تین نومبر کو کئے گئے اقدامات کی توثیق کر سکیں۔ انہوںنے کہاکہ حلف اٹھانے والے ججوں میں چند ایڈہاک جج بھی شامل ہیں۔ جنکا ٹرن اوور ستمبر میں ختم ہو رہا تھا اب حلف اٹھانے کے بعد انکو ذاتی مفاد حاصل ہواہے یہ تمام جج صاحبان وکلاء تحریک میںساتھ چلے تھے تاہم کسی پر یشر کی وجہ سے انہوںنے اس تحریک سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہو گا۔اطہر من اللہ نے کہاکہ نو مارچ 2007ءکو جسٹس افتخار چوہدری نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا تو وہ تنہا تھے اب پوری وکلا ءبرادری انکے ساتھ ہیں یہ قوت صرف انسان کے اندر ہوتی ہے انہوںنے کہاکہ سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کے حلف اٹھانے سے وکلا ءتحریک پرکوئی اثر نہیں پڑے گا وکلاءتحریک نے گزشتہ سترہ مہینوں میں بہت اونچ نیچ دیکھی ہے انہوںنے کہاکہ 3نومبر کا اقدام ایک ناکام مارشل لاءکا اقدام تھا تاہم آج کی حکمران جماعت اس ناکام مارشل لاءکے اقدام کی توثیق کرنے پر تلی ہے ۔جس سے جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو نقصان پہنچے گا اور عدلیہ مزید کمزور ہوگی۔