اردو ٹائمز( نیوز)اے پی ڈی ایم کے مرکزی کنوینئر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین پونم کے مرکزی صدر سابق رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ 6 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو فی الحال ملتوی کر دیا جائے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر متفقہ طور پر ایک امیدوار سامنے لاسکیں۔ پیپلز پارٹی کی اس وقت ایوان میں اکثریت ہے ان کو اپنا امیدوار لانے کا پورا حق حاصل ہے وہ چاہے تو آصف زرداری کو لائے یا کسی اور امیدوار کو مگر میرے خیال میں آصف زرداری کی اس وقت جو حیثیت ہے وہ صدر مملکت کے عہدے سے بہت بڑی ہے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کو بحال کرنے کے وعدے پر قائم ہےں اور سینیٹر رضا ربانی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ تمام معزول ججوں کو ایک قرارداد کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے تو پھر لڑائی کس بات کی ہے اور اگر انتخابات ملتوی نہ کیے گئے تو ہماری پارٹی ان کو ووٹ دے گی جو ججوں کی بحالی ملک میں مکمل آئین کی بحالی کیلئے کوشش میں مصروف ہیں سینیٹر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے فون پر مجھ سے رابطہ کیا ہے مگر میں ان سے ہونے والی بات چیت نہیں بتاﺅں گا یہ بات انہوںنے بدھ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید اکرم شاہ اے پی ڈی ایم کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ زرغون ٹاﺅن کے نائب ناظم قادر آغا ایڈوکیٹ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات نصراللہ زہرے اور احمد جان سمیت پارٹی کے دیگر مرکزی اور صوبائی قیادت بھی موجود تھی محمودخان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت ہمارا ملک محاز آرائی کا متمل نہیں ہوسکتا اور اس وقت وہ بہت نازک دور سے گزر رہا ہے تمام سیاسی جماعتوں کی کوششوں سے ایک ریٹائرڈ جنرل اور صدر نے اپنے عہدے سے استعفی دیا جو بہت بڑی کامیابی ہے صدر کا الیکشن بھی اہم ہے اگر اسے افہام وتفہیم سے بیٹھ کر حل کیا جائے تو بہتر ہے ججوں کو بحال کیا جائے گا اس کا عہد وزیر اعظم سمیت پیپلز پارٹی کے تمام ذمہ دار شخصیت بھی کہہ رہی ہے کہ بحال کیا جائے گا تو لڑائی کس بات کی اس لیے میری آصف زرداری سے گزارش ہے کہ وہ فوری طور پر 6ستمبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن کو ملتوی کردیں اور بیٹھ کر تہہ کریں کہ کون متفقہ امیدوار ہوگا میرے ذمے جو بھی کام لگایا جائے گا وہ میں کرونگا اور جو بھی جیتے گا اس کو مبارکباد دی جائے گا انہوںنے کہا اگر میری تجویز پر عمل نہیں کیا گیا تو پھر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پاس تین سینٹ میں ووٹ ہیں وہ ان کو دیا جائے گا جو ججوں کی بحالی اور آئین کی بحالی کیلئے کوششیں کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ صدارتی الیکشن ملتوی کرکے 1973کے آئین میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور خاص طور پر 52ٹو بی اور دیگر ترامیم کو ختم کیا جائے آئین کو صاف کیا جائے اور اس کے بعد ایک متفقہ طور پر صدارتی امیدوار سامنے لایا جائے اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جو قوتیں اس وقت آمنے سامنے کھڑی ہیں اور کشیدگی کا ماحول ہے وہ ختم ہو جائے گا اور افہام وتفہیم سے صدر کا الیکشن کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا ہم وکلاءکی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور جمعرات کے روز انہوںنے دو گھنٹے کیلئے جو دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں اور ہم سے جو کچھ بھی ہو سکے گا وہ ہم کریں گے۔ یکم ستمبر کو ہم نے جو ہڑتال کی اپیل کی تھی وہ فی الحال مﺅخر کردی گئی ہے انہوںنے کہا سوات وزیرستان میں جو کچھ ہورہا ہے یہ اس کا ردعمل ہیں جو ہم دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ہم دوسرے ملکوں میں مداخلت کرنا چھوڑ دیں تو امریکہ سمیت کوئی بھی ملک ہمارے ملک میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
|
|