اردو ٹائمز( نیوز) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے روس کی طرف سے جارجیا کی 2 علیحدگی پسند ریاستوں اوسیشیا اور انجازیہ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ روس کا یہ اقدام جارجیا میں جاری بحران سے نمٹنے کی کوششوں پر اثر انداز ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ روس کا یہ اقدام جارجیا میں قیام امن کی کوششیں متاثر ہونگی۔ قبل ازیں روس نے جارجیا کی 2 علیحدگی پسند ریاستوں اوسیشیا اور انجازیہ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویٹالی چرکن نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ جارجیا کی ریاستوں اوسیشیا اور ابخازیہ کی آزادی کو تسلیم کرنے سے متعلق روسی صدر کا خط انہوں نے بان کی مون کے حوالے کر دیا ہے۔ میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جارجیا نے اوسیشیا پر طاقت کا استعمال کر کے سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ میں جارجیا کی سفیر اراکلی الاسانیہ نے روس کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ جارجیا میں ہر ممکن طریقے سے روس کی پالیسیوں کا عالمی دنیا پر پردہ فاش کرے گا۔ روس کا یہ اقدام سیکورٹی کونسل کی تمام قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ جارجیا اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے تمام سفارتی ذرائع بروئے کار لائے گا۔ نیٹو ، برطانیہ اور امریکہ نے علیحدگی پسند ریاستوں جنوبی اوسیشیا اور ابخازیہ کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کا روس کا فیصلہ مسترد کردیا جبکہ روس کے صدر دمتری مدوف نے کہا ہے کہ روس نئی سرد جنگ کے آغاز سے خوفزدہ نہیں وہ کسی بھی حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیٹو نے روس کی جانب سے باغی ریاستوں کو تسلیم کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے جارجیا کی علاقائی سالمیت سے متعلق اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی پارلیمنٹ کا جنوبی اوسیشیا اور ابخازیہ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ یکسر مسترد کرتا ہوں امریکی سیکرٹری خارجہ کنڈولیزا رائس نے روسی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا ہے جبکہ اٹلی کا کہنا ہے کہ روس کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا دوسری جانب روس کے صدر دمتری مددوف نے نیٹو کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نئی سرد جنگ سے خوفزدہ نہیں ایک انٹرویو میں روسی صدر نے واضح کیا ہے کہ روس تمام حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ جنوبی اوسیشیا کے حوالے سے روسی اقدام سے بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
|
|