|
اردو ٹائمز( نیوز)امریکہ میں آباد مسلمان صدارتی انتخاب میںگہری دلچسپی لے رہے ہیں اور مسلم افیئرز کی صفیہ غوری کا کہنا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو امریکہ کے سیاسی عمل میں حصہ بنے بغیر اپنے لئے نمایاں مقام حاصل کرنا مشکل ہے ۔ڈینور میں جاری ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن کے دوران جب کہ تمام تر توجہ سیاسی تقاریر اور رائے عامہ کے جائزوں پر مرکوز ہے، مختلف مذاہب کے لوگوں کو امریکہ کے سیاسی نظام کا حصہ بنانے کے لیے خصوصی تقاریب کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ایک ایسی ہی تقریب مسلم پبلک افیئرز کونسل کے زیراہتما م منعقد ہوئی ۔ اس تقریب میں اسلام اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ مسلم افیئرز کی صفیہ غوری نے امریکی سیاست میں مسلمانوں کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال سے لوگ، خصوصاً نوجوان حقیقی معنوں میں سینیٹر اوباما کو پسند کرتے ہیں اور اس وقت انھیں براک اوباما کے پیغام میں جو چیز اپیل کررہی ہے وہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کو ایک نئی سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ مسلم کمیونٹی میں اس بات کا احساس بھی ہورہا ہےکہ امریکہ کے سیاسی عمل کا حصہ بنے بغیر اپنے لیے نمایاں مقام حاصل کرنا مشکل ہے اسی لیے آپ کو کنونشن میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان نظر آرہے ہیں۔ مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتیں بھی۔ یہ پہلا کنونشن ہے جس میں امریکہ میں آباد تقریباً تمام اقلیتوںکی اتنی زبردست نمائندگی ہے۔امریکہ میں ہسپانوی باشندوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ جس رفتار سے ان کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس کے پیش نظر آئندہ 25 برسوں میں وہ امریکی آبادی کا 30 فی صدحصہ ہوجائیں گے۔ ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں موجود ایک ہسپانوی باشندے ناٹیوو لوپیز نے امریکی صدراتی انتخاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔امریکہ میں رہنے والے ہسپانویوں کی اکثریت اوباما کو ووٹ دے سکتی ہے اور رائے عامہ کے جائزوںکے مطابق ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ہسپانوی براک اوباماکی حما یت کررہے جبکہ جان مین کو صرف بیس سے پچیس فیصد کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن ہم دونوں پارٹیوںکویہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمیں صرف ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے اور اب انھیں وہ تمام ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی جن کا وعدہ وہ انتخابات کے دوران کرتے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہو ںہم یعنی عوام ،سیاستدانوں کو ان کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ان پر دباو ڈال سکتے ہیں۔
|
|