|
اردو ٹائمز(نیوز) جنوبی افغانستان میں افغان پولیس کی ایک چوکی پر طالبان کے حملے میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری لڑائی میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ سمنوال مطیع اللہ نے بتایا کہ ضلع پنجوائی میں طالبان جنگجوﺅں نے ایک پولیس چیک پوائنٹ پر دھاوا بول دیا اور گرنیڈ داغا گیا اس موقع پر جھڑپ بھی ہوئی جس کے نتیجے میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں تاہم طالبان کو جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں اس علاقے کو طالبان کے گڑھ کے طور پر جانا جاتا ہے دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی بچوں کیلئے خصوصی نمائندہ رادھیکا کومارا سوامی نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری پرتشدد واقعات سے ملک کے بچے بدترین مشکلات کا شکار ہوئے ہیں جو حملوں اورجنسی تشدد کا شکار ہورہے ہیں اور انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں افغانستان سے بڑھ کر اور کوئی ایسا ملک نہیں ہے جہاں بچے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ جنہوں نے حال ہی میں افغانستان کا پانچ روزہ دورہ کیا ہے کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بچے نہ صرف جنگ کے دوران تشدد کا شکار ہوئے ہیں بلکہ انہیں غربت اور سخت محنت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے ۔
|
|