اردو ٹائمز(نیوز) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے غزہ کے حالات کو خطرناک قرار دیا ہے۔ مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابوزھری نے کہا ہے کہ غزہ کے حالات حادثے تک پہنچ چکے ہیں۔ مصر کو مکمل طور پر رفح سرحد کھولنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ غیر منظم طریقے سے محدود وقت کے لیے رفح کراسنگ کھولنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔ بالخصوص طلبہ اور مریض بڑی پریشانی کا شکار ہیں۔ سامی ابوزھری نے رفح کراسنگ مکمل طور پر نہ کھولے جانے کی ذمہ داری فلسطینی صدر محمود عباس پر عائد کی۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس رفح کراسنگ کھولے جانے کے معاہدے کے ڈرافٹ کو مسلسل مسترد کرتے آرہے ہیں، جس کے باعث غزہ کے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔سامی ابوزھری نے محمود عباس کے اس بیان کی مذمت کی جس میں حماس کو بین الاقوامی شرائط تسلیم کر نے کا کہا گیا ہے۔ محمود عباس کے لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار الحیاة کو بیان میں کہا تھا کہ فتح اور حماس کے درمیان مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ حماس بین الاقوامی شرائط تسلیم کرے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی شرائط کا مطلب مزاحمت کا خاتمہ اور اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔