اردو ٹائمز(نیوز)آئی ایم ایف نے انتباہ دیا کہ اگر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو چند ممالک اپنے عوام کا پیٹ بھرنے اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈوسنگ اسٹراس کاہن نے آئی ایم ایف کا ایک نیا مطالعہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ چند ممالک تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں ۔ مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ درآمد پر انحصار کرنے والے غریب اور اوسط آمدنی والے ممالک کے لئے انتہائی نازک مسئلہ ہے کیونکہ وہ ادائیگیوں کے توازن کے مسائل اعظم ترین افراط زر اور بدترین غربت سے متصادم ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اگر غذائی اشیاءکی قیمتیں مزید بڑھ جائیں اور تیل کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو چند حکومتیں اپنے عوام کا زیادہ دن تک پیٹ بھرنے سے قاصر ہو جائیں گی اور ساتھ ہی وہ اپنی معیشتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہیں گی ۔ کاہن نے کہا کہ ایسے ممالک کو اچھی پالیسی کے انتخاب کے لئے بین الاقوامی برادری کی مدد درکار ہے، ان کے چیلنجز ہمارے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈز نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیل اور کھانے پینے کی اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث غریب ممالک میں غربت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈز کی طرف سے تیل اور کھانے پینے کی اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو تیل اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں بعض ممالک میں غربت میں مزید اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں عالمی سطح پر تیل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے انتہائی منفی اثرات دیکھنے میں آئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے ڈومینکیو اسٹراس کہن نے کہا کہ اگر مستقبل میں تیل کی قیمتیں برقرار رہتی ہیںاور کھانے پینے کی اشیاءمیں اضافہ ہوتا ہے تو بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اپنے عوام کو کھانے پینے کی اشیاءفراہم نہیں کر سکیں گے اور اس موقع پر اپنی معیشتوں میں بھی استحکام برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ آئی ایم ایف کے سربراہ نے تیل اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں وسیع البنیاد حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عالمی مالیاتی ادارہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ضرورت مند ملکوں کو تمام ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوںنے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خوراک کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کیلئے غریب ملکوں کے ساتھ تعاون کریں اور کئی ملکوں میں خوراک کی کمی کے باعث مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف یورپ میں وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے، اس طرح بنگلہ دیش ، کیمرون اور صومالیہ کے علاوہ بہت سے دوسرے ملکوں میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔