|
اردو ٹائمز(نیوز) سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وجیہ الدین نے باڑہ میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل گولی نہیں ہوتا۔ ڈائیلاگ کا بھی راستہ اور آپشن موجود ہے۔ آپریشن کے لئے ایسے حالات پیدا ہی کیوں کئے گئے کہ ہر بات کا جواب گولی سے دیا جائے گولی اور تشدد کا جواب بھی تشدد ہوتا ہے جوکسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ ٹیلیفونک انٹرویو میں جسٹس وجیہ الدین نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کروانے کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے اس معاملے کی اپنے اداروں سے تفتیش سے انکار کا مطلب خود اس کی اپنی نا اہلی ہے کیوں وہ نہیں چاہتی کہ اصل قاتل پکڑے جائیں۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ با¶چر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس(ر) وجیہ الدین نے کہا کہ صدر مشرف ہی پاکستان کا اصل مسئلہ ہیں کیونکہ لوڈشیڈنگ اور مہنگائی ان کی پیدا کردہ ہے۔ آج وہ کی طرح روم کو جلتا دیکھ کر بانسری بجا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دھرنے کی تائید کرتے ہوئے جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے مسئلہ پر وکلاءبرادری مکمل طور پر متحد ہے لیکن لانگ مارچ کے انجام پر وکلاءمیں تحفظات پائے جاتے ہیں اور 19 جولائی کے اجلاس کو بلایا جانا اسی سوچ کا عکس ہے۔ وکلاءتحریک سول سوسائٹی‘ دانشور‘ میڈیا اور عوام کی مشترکہ تحریک ہے اور ایک ہی نقطے پر متفق ہے کہ چیف جسٹس اور عدلیہ کے جج بحال ہوں۔
|
|