اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 03 Jul 2008 14:09:00

آئینی پیکیج قوم کے ساتھ مذاق ہے:پاکستان بار کونسل

آئینی پیکیج قوم کے ساتھ مذاق ہے:پاکستان بار کونسل

اردو ٹائمز(نیوز) ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کےلئے پاکستان بار کونسل کے فےصلے کے مطابق ملک بھر کے وکلاءنے گزشتہ روز ہفتہ وار احتجاج کےا۔ اس دوران مکمل عدالتی بائےکاٹ کے ساتھ ساتھ متعلقہ بار اےسوی اےشنز مےں اجلاس منعقد کئے گئے اور احتجاجی رےلےاں نکالی گئےں۔احتجاج کے دوران صوبائی دارالحکومت مےں بھی اےوان عدل سے اسمبلی ہال تک رےلی نکالی گئی۔ جی پی او چوک سے لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلاءبھی ریلی میں شامل ہوگئے ۔ریلی کی قیادت لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر انور کمال اور نائب صدر میاں اسلم اور لاہور بار کے صدر منظور قادر اور سیکرٹری لطیف سراءنے کی ۔ گزشتہ روز چلچلاتی دھوپ اور شدید حبس میں پسینے میں شرابور وکلاء¾ طلبہ ¾ سول سوسائیٹی ¾ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے ریلی میں بھرپور شرکت کی ۔جنہوں نے اپنی اپنی پارٹیوں اور تنظیموں کے پرچم اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے ۔جن میں مسلم لیگ ن ¾ تحریک انصاف ¾ جماعت اسلامی ¾ خاکسار تحریک ¾ استقلال پارٹی ¾ جمعیت علمائے پاکستان ¾ پختون خواہ، ملی عوامی پارٹی ¾لیبر پارٹی اور دیگرجماعتیں شامل تھیں۔ شرکاءرےلی پورے رستے مشرف کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔جن میں ”چےف تےرے جانثار، بے شمار،بے شمار“۔”گو مشرف گو“ ۔” امرےکہ کا جو ےار ہے۔ غدار ہے غدار ہے“۔” عدلےہ کی آزادی تک۔ جنگ رہے گی‘ ‘ ۔ ” اعتزاز تیری قیادت پر اعتماد ہے ¾اعتماد ہے ¾ ¾ اعتزاز تیرے جانثار بے شمار ¾ بے شمار‘ ” معزول ججوں کو بحال کرو“اور دےگر نعرے لگاتے رہے ۔ شرکاءنے مختلف پلے کارڈ اور بےنرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ جن پر عدلےہ کی بحالی سے متعلقہ نعرے درج تھے۔گزشتہ روز پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف علی زرداری کے خلاف تحریک انصاف کے کارکنوں نے شدید نعرے بازی کی اور ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے ۔مسلم لیگ ن لائرز فورم کی جانب سے ایک بہت بڑا بینر اٹھائے چند وکلاءریلی کے ساتھ چل رہے تھے جن پر تحریر تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ساتھی ججوں کی بحالی تک تحریک جاری رہے گی ۔چند وکلاءنے ڈاکٹر عبدالقدےر خان کی بڑی بڑی تصاوےر اٹھا رکھی تھےں۔جن پر ان کی رہائی کے مطالبے درج تھے۔اسمبلی ہال چوک مےں مسلم لیگ ن کے رہنماءخواجہ سعد رفیق ¾ جماعت اسلامی کے رہنماءلیاقت بلوچ ¾تحریک انصاف پنجاب کے صدر عبدالرشید ¾پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے غلام خان ¾ جمعیت علمائے پاکستان کے قاری زوار بہادر ¾ وکلاءتحرےک کے قائد حامد خان۔ ہائےکورٹ بار کے صدر انور کمال ¾ لاہور بار کے صدر ¾سیکرٹری لاہور بار لطیف سراءو دیگرنے شرکاءسے خطاب کےا۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعدرفیق نے کہاکہ مشرف حقیقی صدر نہیں اب کوئی سیاسی جماعت انہیں بچانے کی کوشش نہ کرے ¾ جب تک جج بحال اور پرویز مشرف کا مواخذہ نہیں ہوتا مسلم لیگ ن وکلاءکے ساتھ ہے۔اور ان معاملات پر ہم ہمیشہ انتظار نہیں کر سکتے۔اب پی سی او جج میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے خلاف جو چاہے فیصلہ کریں ہمیں کچھ پروا نہیں ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کی حکومت ہمارے پاﺅں کی زنجیر نہیں بنے گی ۔انہوں نے واضح کیا کہ سرحد اور وزیرستان میں چل رہے ،فوجی آپریشن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اس ضمن میں میاںنواز شریف سے صلاح مشورہ نہیں کیا گیا تھا ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ وکلاءتحریک کامیابی کی منزل پر پہنچے گی ۔ہم امریکی مداخلت ¾ جاگیرداری ¾سرمایہ داری نظام ختم کر کے عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں ۔اس وقت مسلم لیگ ن ¾ جمعیت علمائے اسلام ¾ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت بنی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں کہ حکومت بنا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اب زرداری اور مشرف کو لگام دینا ہوگی اگر جج بحال نہیں ہوتے اور مشرف کا مواخذہ نہی کیا جاتا تو تحریک چلتی رہے گی ۔اگر زرداری ¾ مشرف ¾ ایم کیو ایم اور ق لیگ کو ملا کر حکومت بنائی گئی تو انہیں نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ عوام ایسی حکومت کو ایک دن بھی چلنے نہیں دیں گے ،چنانچہ دو نومبر کی عدلیہ فی الفور بحال ہونی چاہیے۔بعد ازاں ریلی کے اختتام سے قبل تحریک کے حق میں آمریت کے خاتمے کےلئے دعاءبھی کروائی گئی ۔ریلی میں سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید چوہدری ¾ لاہور بار کے سابق صدر محمد شاہ ¾ پاکستان بار کونسل کے ممبر حافظ عبدالرحمن انصاری ¾ ممبر پنجاب بار کونسل محمد اقبال دھینگل ¾پیر خورشید کلیم ¾ میاں اسلم ¾ فیروزہ رباب ¾ ملک عظیم ¾ محمد شاہ ¾ سید منظور گیلانی ¾ ضیاءاللہ منج ¾ ربیعہ باجوہ ¾ تسنیم عرفان ¾ محمد اظہر صدیق ¾میاں جمیل اختر ¾ چوہدری نذیر سمیت دیگر وکلاءنے شرکت کی ۔ رےلی کے دوران اےلےٹ فورس کے کمانڈوز اور محافظ پولےس اسکارٹ کر تی رہی ۔اور چند پولیس اہلکار شرکاءریلی کے آگے آگے چلتے ہوئے چیئرنگ کراس تک پہنچے ۔ اس کے راستے مےں حساس جگہوں پر پولےس اہلکار تعےنات کئے گئے تھے ۔ بعد ازاں فیصل چوک میں پہنچ کر قائدین کے خطاب کے بعد شرکاءریلی پرامن طور پر منتشر ہوگئے ۔ عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کےلئے وکلا برادری کی طرف سے ملک بھر میں گزشتہ روز ہفتہ وار احتجاج کرتے ہوئے عدالتی کاروائی کامکمل طور پر بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ بار میں بھی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور وکلاءنے بار روم میں جنرل ہاوس کا اجلاس طلب کیا جس میں حکمرانوں کے خلاف اور ججوں کی بحالی کےلئے شدید نعرے بازی کی گئی ۔جبکہ عدلیہ بچاﺅ کمیٹی اور ہائیکورٹ بار کی جانب سے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا گیا ۔ہائیکورٹ بار کے کیمپ میں ایس ایم مسعود ¾ راجہ ذوالقرنین اور دیگر وکلاءنے شرکت کی جبکہ کمیٹی کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں عبدالرشید قریشی ¾میاں جمیل اختر ¾ ایس ایم زمان ¾ سید فیاض شیرازی ¾ امتیاز رشید قریشی ¾ ولی الرحمن ¾ خاور اکرام بھٹی ¾ شریف چوہان ¾ اللہ بخش گوندل اور متعدد وکلاءنے احتجاج میں شرکت کی ۔علاوہ ازیں کمیٹی کے اجلاس میں قرار داد منظور کی گئی کہ وکلاءتحریک ختم ہوئی اور نہ مدھم پڑی ہے ¾وکلاءچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور انکے ساتھی ججوں کی بحالی کے سلسلہ میں آج بھی متحد ہیں ۔وکلاءنے لانگ مارچ کے ذریعے تمام قوم کو متحد کیا اور اسلام آباد پہنچ کر اقتدار کے ایوانوں کو ہلا دیا۔اب وکلاءجلد ہی سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کریں گے اور تمام قوم ٹیکسوں کی ادائیگی روک دے گی ۔لہذا بیشتر اس کے کہ وکلاءسول نافرمانی کا آغاز کریں حکمران انکے مطالبات تسلیم کر لیں اور قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کریں ا گر عدلیہ بحال نہ ہوئی تو وکلاءاب لانگ مارچ سے بھی بڑا چیلنج حکومت کو دیں گے چاہے۔ یہ عدالتوں کی تالہ بندی ¾ پہیہ جام یا شٹرڈاون کی صور ت میں ہوگا ۔میاں نواز شریف وکلاءکے ساتھ چلیں کوئی انکا بال بھی بےکا نہیں کر سکتا ۔آئینی پیکج قوم سے بہت بڑا مذاق ہے جسے وکلاءمسترد کر چکے ہیں ۔19جولائی کو وکلاءتحریک کے حوالے سے نیا اور موثر لائحہ عمل دیں گے ۔ان خیالات کا اظہار لاہور ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاوس کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مختلف وکلاءرہنماﺅں نے کیا ۔اجلاس میں دل افروز سبحانی ایڈووکیٹ کی ملک میں امریکی مداخلت اور وزیرستان و سوات میں چل رہے آپریشن کو ختم کر کے مذاکرات کرنے جبکہ ربیعہ باجوہ کی 2نومبر کی عدلیہ بحال کرنے کی قرار دادیں منظور کر لیں گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ وکلاءقیادت میں کوئی تقسیم نہیں جو اپنے کاز سے مخلص ہے ۔تاہم بعض ہم میں غلط فہمیاں اور اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔لیکن ہم باتوں میں نہیں آئیں گے اور تحریک جاری رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کو وکلاءنے مسترد کر دیا ہے یہ قوم کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے۔قوم عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اور حکمران آئینی پیکج لا کر عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ چاہتے عدلیہ انکی ماتحت ہو جائے انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کو پاکستان بار کونسل اور 19کے وکلاءکنونشن میں بھی مسترد کر دیا جائے گا ۔آئینی پیکج ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ امداد دیکر وکلاءکے ضمیر خرید لیں گے ۔ہم صرف نو مارچ کے طریقہ کار کے تحت ججوں کی بحالی چاہتے ہیں۔وکلاءبرادری 19 جولائی کو نیا اور موثر لائحہ عمل دیں گے ۔حافظ عبدالرحمن انصاری نے کہا کہ جب تک جج بحال نہیں ہو جاتے تحریک جاری رہے گی ۔اب وکلاءبرادری لانگ مارچ سے بھی بڑا چیلنج دے گی جو عدالتی تالہ بندی ¾ پہیہ جام یا شٹر ڈاون کی صورت میں ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے لانگ مارچ پر حکمرانوں نے ججو ں کو بحال کرنے کی بجائے ہمارا مذاق اڑایا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں ¾امریکہ کے غلاموں تم اپنا زور لگا لو ہم اپنا زور لگایں گے ۔لیکن جیت کالے کوٹ کی ہوگی ۔انہوں نے کہا ہماری میاں نواز شریف سے گزارش ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر دو ٹوک موقف اپنائیں اور وکلاءکے شانہ بشانہ چلیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اعلان کر کے جولائی میں ہی شاہراہ دستور پر جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم اسلام آباد فتح کرنے آ رہے ہیں تم اپنی فوجیں لیکر آ جاﺅ ۔لیکن وکلاءاپنا مقصد پورا کئے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔لاہورہائیکورٹ بار کے صدر انور کمال نے کہا کہ آمریت کی کالی رات میں وکلاءتحریک چراغ جلانے کے مترادف ہے ۔جب تک جج بحال نہیں ہو جاتے اور حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو جاتی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔قبل ازیں ہاوس کے سامنے جو قرار دادیں پیش کی گئیں جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔دل افروز سبحانی ایڈووکیٹ کی پیش کردہ قرار داد کے متن میں کہا گیا تھاکہ امریکہ کے ایماءپر خیبر ایجنسی ¾ جنوبی وزیرستان اور سوات کے علاقہ جات پر پاکستانی فوج کا ٹینکوں ¾ بموں اور راکٹوں سے حملہ اور بے گناہ انسانوں ¾ عورتوں اور بچوں کا قتل عام انتہائی احمقانہ ریاستی دہشت گردی ہے جو اپنے ہی ملک کے باشندوں کے خلاف جنگ کے مترادف ہے اور اس وجہ سے استحکام پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔لہذا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ اس فوجی آپریشن کو فی الفور بند کیا جائے ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا اور آج کے حکمران کل کے غلام قیدی ہونگے اور بہت سے ان میں سے مارے جائیں گے ۔لہذا مسئلہ طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات سے حل کیا جائے ۔جبکہ لاہورہائیکورٹ بار کی سابق سیکرٹری فنانس ربیعہ باجوہ کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کے متن میں کہا گیا تھا کہ 9 مارچ07 ءکو ایک ڈکٹیٹر نے غیر آئینی و غیر قانونی طور پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو فرائض کی ادائیگی سے روک دیا گیا ۔جس سے ملک کے عوام سستے انصاف تک کے حصول سے محروم ہوگئے ۔جبکہ عبدالحمید ڈوگر نے انسانی حقوق کا سیل بند کر دیا ۔ہم ڈوگر راج کی بھرپور مذمت کرتے ہیں یہ ہاوس پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ذاتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عوامی نمائندگی کا حق اداءکریں اور 2نومبر کی عدلیہ کو فی الفور بحال کرئے جو ملک میں عام آدمی کو انصاف مہیا کرنے کےلئے اپنا آئینی کردار ادا کر رہی تھیں۔

 









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier