اردو ٹائمز(نیوز) حکومت پنجاب نے صوبے بھر کے ہزاروں دینی مدارس میں سے 80 دینی مدارس کو مستقبل کے لئے خطرناک قرار دے دیا گیا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو ریگولر مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض حساس اداروں نے اطلاعات دی تھیں کہ بعض دینی مدارس انتہا پسندی میں ملوث ہیں جس پر حکومت پنجاب نے ان مدارس کے حوالے سے محکمہ سپیشل برانچ ضلعی انتظامیہ اور دیگر ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے ان کو خطرناک قرار دے کر ان کی نگرانی اور سرگرمیوں کی مستقل چیکنگ کا بندوبست کرنے کے لئے پولیس کو ہدایات دی ہیں کیونکہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق جامعہ حفصہ اور دیگر اداروں کی طرح یہ ادارے مستقبل میں قانون کو ہاتھ میں لینے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ جن اضلاع میں دینی مدارس کو حساس قرار دیا گیا ہے ان میں لاہور میں 12، شیخوپورہ میں 1 گوجرانوالہ میں 1 سیالکوٹ میں 2، راولپنڈی میں 14، اٹک میں 7 چکوال میں 1، فیصل آباد میں 4 ، جھنگ میں 4، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 1، ملتان میں 3 ،ساہیوال میں 3 ، وہاڑی میں 1، خانیوال میں ، لودھراں میں 1، بہاولپور میں 6، رحیم یار خان میں 8 ،بہاولنگر کے 4 مدارس شامل ہیں۔