اردو ٹائمز(نیوز) امریکہ کے صدر جارج ڈبلیوبش نے افغانستان میں نیٹو اور اتحادی فوجیوں کیلئے مشکل مہینے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکلات کے باوجود افغانستان میں جنگ کے حوالے سے حکمت عملی کام کر رہی ہے۔ اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع نے جون کے مہینے کو امریکہ اور اتحادی افواج کیلئے مشکل مہینہ قرار دیا تھا۔ گذشتہ ماہ 2001ءکے بعد پہلی مرتبہ امریکی اور اتحادی فوج کو بھاری جانی ومالی نقصان پہنچا تھا۔ صدر بش نے گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہماری افواج کیلئے یہ ایک مشکل مہینہ تھا تاہم یہ طالبان کیلئے بھی ایک سخت مہینہ ثابت ہوا ہے۔ صدر بش نے کہاکہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔افغانستان میں مزید امریکی افواج کی تعیناتی کے سوال پر صدر بش نے کہاکہ وہ اور امریکی فوجی عہدیدار زمینی حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکی افواج کو پہنچنے والے جانی نقصان سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم دشمن کے خلاف میدان میں صف آراءہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2009ءمیں مزید افواج کی تعیناتی کا امکان ہے۔ امریکہ اہداف کے حصول کیلئے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ ایٹمی پروگرام کو روکنے کیلئے شمالی کوریااور ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود ہے۔ واشنگٹن میں جاپانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ دونوں ملکوں کیخلاف فوجی کارروائی کا آپشن ختم نہیں ہوا تاہم پہلی ترجیح ہوگی کہ ایٹمی معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ صدر بش نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ ان کے نزدیک کسی بھی مسئلے کے حل کیلئے پہلا انتخاب بات چیت ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر فوجی آپشن کا استعمال ناگزیر ہوگا