اردو ٹائمز(نیوز) جمعیت علماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر نے سزائے موت ختم کرکے اسے عمر قید کی سزا میں تبدیل کرنے کے کابینہ کے فیصلے کو آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور اسلام سے صریحاً بغاوت قرار دیا ہے۔ گزشتہ روز نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے قاری زوار بہادر نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ قومی اسمبلی اور عوام حکومت کو کسی صورت اجازت نہیں دیں گے کہ حکمران اسلام سے بغاوت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ”آئین“ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت امریکہ اور مغرب کے پرانے ایجنڈے کی تکمیل کررہی ہے جو کہ 295/C کے تحت سزائے موت ختم کرانے کیلئے کوشاں رہے ہیں۔ اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسمبلی کی منظوری کے بغیر منافی اسلام قانون بنایا ہے جس پر بھرپور احتجاج ہوگا اور اگر حکمرانوں نے اس قانون کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا تو پھر یہ حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت مسلسل ایسی پالیسیاں چلا رہی ہے جس سے واضح ہوگیا ہے کہ یہ پرویز مشرف سے بھی زیادہ غیروں کے سامنے لیٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب قوم کی نظریں پیپلز پارٹی کی حلیف مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائد میاں نوازشریف پر لگی ہوئی ہیں کہ کب تک وہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر اپنی حلیف جماعت کی حکومت کے ہاتھوں ضربیں لگتی دیکھتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو دورخی پالیسی چھوڑ کر پاکستان کی اعتدال پسند جماعتوں کے ساتھ آجانا چاہئے تاکہ خلاف اسلام حکومتی اقدامات کے آگے بند باندھا جاسکے۔