|
اردو ٹائمز(نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انکی جماعت کشمیر میں بندوق کے استعمال کے حق میں نہیں ہے اور یہ کہ پاک بھارت تعلقات کو مسئلہ کشمیر کے عوض یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ حریت کانفرنس کشمیری عوام کی واحد نمائندہ جماعت ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ہر سطح پر حریت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ مقامی خبررساں ادارے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا وجود مسئلہ کشمیر سے شروع ہوتا ہے کیونکہ پارٹی کے بانی مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا فلسفہ ہی کشمیر کا مسئلہ تھا۔ انداز اپنا اپنا ہے اور وقت کی نزاکتیں ہیں، اگر میں آپ سے جنگ نہیں چاہتا تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں آپ کے م¶قف کو تسلیم کرتا ہوں اور میں نے آپ کی بات مان لی“۔آصف زرداری نے کہا کہ چاہے آپ مجھ سے زور آور کیوں نہ ہوں اور میں کمزور کیوں نہ ہوں لیکن جب تک ایک مشن اور قوم کو اپنے ساتھ ملانہ لوں،جب تک وہ زخم نہیں بھرتا، تب تک وہ زخم موجود رہے گا۔ مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈالنے سے متعلق انکے ایک بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے فوجی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کا وجود ہی صرف جنگ کیلئے عمل میں لایاگیا ہے میں نے یہ نہیں کہاتھا کہ مسئلہ کشمیر کو بعد میں حل کیا جائے، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اس ایشو کے ساتھ ڈیلنگ کی جائے اور پاک بھارت رشتوں کو اس مسئلے پر یرغمال نہیں بنایا جائے۔ زرداری نے کہا کہ اب دنیا بدل گئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی کوئی وجہ نہیں ہے اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم کشمیریوں کا حق تسلیم کرتے ہیں، بھارت ایک بڑی طاقت ہے اور بڑی طاقت بننا چاہتی ہے لہٰذا اسے چھوٹے چھوٹے غم ختم کرنے چاہئے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہمارے دل میں کشمیر کی ہر بیٹی کیلئے احترام ہے، محبوبہ مفتی اور ہماری پارٹی کا آپس میں کوئی واسطہ نہیں ،کشمیر کے ساتھ رشتہ ہے ، ان کے ساتھ نہیں لیکن اگر وہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں بحیثیت سیاستدان اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے، یہ الگ معاملہ ہے کہ انہوں نے حکومت کو جوائن کیا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کشمیر کی بیٹی ہیں اور پہلی بار ان کے گھر آئی تھیں اور ہم گھر آئی بیٹیوں کو عزت دیتے ہیں‘کشمیر میں بندوق کے رول پر تبصرہ کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہاکہ میں دعا کرتا ہوں کہ بندوق کو زنگ لگ جائے، یہ استعمال نہیں ہوگی تو اسے خود بخود زنگ لگ جائے گا، ہم نے یہ پہلے ہی کہا ہے کہ نظام بدل کر محترمہ بے بھٹو کی شہادت کا بدلہ لیں گے، چند گمراہ بچوں کو پھانسی دینے سے مجھے کیا ملے گا؟ کشمیر کے حوالے سے پیش کی جا رہی تجاویز کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زرداری نے کہا کہ جس طرح کشمیری مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہوں اور وہاں امن قائم ہو، جس طرح کشمیریوں کو ان کا حق ملے، ہم اسی پوائنٹ پر راضی ہیں جس پر کشمیری عوام راضی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیر کی ان بہنوں ، بھائیوں، ماﺅں اور بچوں کو سلام پیش کرتا ہوںجن کے اپنے ان سے لوٹ لئے گئے، مجھے اس غم کا احساس ہے کیونکہ مجھ سے میرا ساتھی چھین لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے بچوں کو اس غم سے کوئی جدا نہیں کرسکتا، ہمیں معلوم ہے کہ جب بغیر وجہ یا کسی کاز کیلئے کوئی اپنا کھو جاتا ہے تو کتنا درد ہوتا ہے؟ میں اس درد میں کشمیریوں کے ساتھ ہوں۔آصف علی زرداری نے کشمیری عوام سے صبر کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ وہ وقت ضرورت آئے گا جب کشمیری عوام کو ان کا حق ملے گا۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کشمیری عوام کی واحد نمائندہ جماعت ہے اور اسی وجہ سے حریت قائدین کو پاکستان کے سرکاری دورے پر مدعو کیا گیا۔ حریت کانفرنس کا مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک اہم رول بنتا ہے اور انہوں نے بھی قربانیاں دی ہیںاور پاکستان کسی بھی صورت میں کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں ہونے دے گا۔
|
|