اردو تائمز(نیوز) خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں مذہبی تنظیم امر بالمعروف ونہی المنکر کے دفتر پر نامعلوم افراد کے میزائل حملہ میں نو افراد جاں بحق جبکہ بارہ زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قمبر خیل میں مذہبی تنظیم امر بالمعروف کے رہنما حکیم خان کے گھر پر میزائل حملہ ہوا۔ اس گھر میں تنظیم کا دفتر بھی تھا میزائل حملہ سے گھر اور دفتر تباہ ہوگیا۔ حملہ میں ایک خاتون اوربچے سمیت نو افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ادھر تنظیم کے رہنما حاجی نامدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میزائل حملے کی زد میں ان کے تین اہم ساتھی گل ولی، نواز اور رحیم بھی آئے ہیں جو جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میزائل حملہ نیٹو اور پاکستانی فورسز کی مشترکہ کارروائی ہوسکتی ہے۔ زخمیوں کو باڑہ ڈوگر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ادھر مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں مذہبی تنظیم کے امیر اور دیگر اہم کمانڈر محفوظ رہے۔ مقامی لوگوں اور مذہبی تنظیم کے رضا کار امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور تباہ ہونے والی بلڈنگ کے ملبے تلے دب جانےوالے لوگوں کو نکالا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائل نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا تاہم میزائل حملے میں مذہبی تنظیم کے امیر حاجی نامدار محفوظ رہے۔ واقعہ کے بعد لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ پولیٹیکل انتظامیہ اور آرمی حکام واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔ دریں اثناءلوئیہ کرم ایجنسی احمدی شمع کے قریب سورپل کے علاقے میں پیر کی صبح آٹھ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بدنام زمانہ ڈاکو راجہ گروپ سے ان کا تعلق تھا جنہیں گزشتہ روز نامعلوم افراد نے اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے تھے اور آج صبح پیچھے کی طرف ہاتھ باندھے ہوئے ان کی لاشیں ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ گروپ راجہ کی قیادت میں طالبان کے روپ میں ایک عرصے سے قتل و غارت گری‘ اغوا اور ڈکیتی‘ اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں میں ملوث تھا۔ علاقے کے لوگوں نے ان کی موت پر سکھ کا سانس لیتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ گروپ نے علاقے میں ایک عرصے سے دہشت مچا رکھی تھی۔ باقاعدہ امیر گھرانوں سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے۔ سرکاری اور دوسرے ذرائع نے بھی اس کی تائید کی ہے کہ گروپ کا تعلق جرائم پیشہ افراد سے تھا جو متعدد کیسوں میں مطلوب تھے۔ ہلاک شدگان میں راجہ ولد نیک بادشاہ‘ بسم اللہ ولد ظاہر خان‘ شیر نواب ولد نامعلوم‘ رفیق ولد ذکی جان‘ ولی جان ولد ذکی جان کا تعلق علاقہ چیانگہ کرم ایجنسی جبکہ تین کا تعلق ضلع ہنگو علاقہ درسمند سے بتایا جاتا ہے۔ لاشیں ورثاءکے حوالے کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے بوڑتی اور خرچی کے قریب نیٹو فوج کے جاسوس طیاروں نے پروازیں کی ہیں تاہم بغیر کسی کارروائی کے واپس چلی گئی ہیں۔دریں اثناءبنوں میں پولیس نے ناکہ بندی کے دوران ایک کار سے بھاری اسلحہ برآمد کر کے دو مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔ کنگ پل پر پولیس نے سفید رنگ کی کارکو رکنے کا اشارہ کیا ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے تعاقب کر کے کار کو قبضے میں لے لیا۔ کار سے 5 راکٹ لانچر، ایک میزائل، 7 ڈیٹونیٹر، 5 بیٹریاں اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ دوسری طرف مےنگورہ کے علاقے طاہر آباد کی اےک مارکےٹ مےں کئی دھماکے ہوئے جس کے نتےجے مےں 54 دکانےں تباہ ہوگئےں۔ دھماکوں کی جگہ سے متعدد خودکش جےکٹس راکٹ لانچر اور مارٹر گولے اور بھاری اسلحہ برآمد کر لےاگےا۔ پولےس ذرائع کے مطابق سوات کے مرکزی شہر مےنگورہ کے محلہ طاہر آباد مےں درےا خان مارکےٹ مےں ےکے بعد دےگرے کئی دھماکے ہوئے جس کے نتےجے مےں 54 دکانےں تباہ ہوگئےں۔ جائے وقوعہ سے کلاشنکوفےں، دستی بم تےن عدد خودکش جےکٹس راکٹ لانچرزاور مارٹر گولوں سمےت بڑی تعداد مےں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق لگتا ہے کہ عسکرےت پسند مارکےٹ کو گودام کے طور پر استعمال کررہے تھے۔
|
|