اردو ٹائمز(نیوز) غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک(فافین) نے 18 فروری 2008 کو ہونے والے الیکشن کی حتمی رپورٹ جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ 15 ملین ووٹر اس وقت بھی الیکشن کمیشن کی انتخابی فہرست سے غائب ہیں۔ 7.5 ملین ووٹرکا اندراج ایک سے زیادہ مرتبہ کیا گیا۔ 1.26 ملین قومی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبرز بھی ایک سے زائد مرتبہ درج کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فافین نے جون 2007 میں ووٹرز کے اندراج اور بوگس ووٹرز کےلئے ایک آﺅٹ مہم چلائی جس کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ 27 فیصد گھروں میں رہنے والے لوگوں کا ووٹر لسٹ میں اندراج ہی نہیں ہے۔ پنجاب میں 16 فیصد، سرحد میں15 فیصد، سندھ میں 21 فیصد بلوچستان میں19 فیصد، اور فیڈرل ایریا میں 21 فیصد اہل افراد کا اندراج نہیں ہے۔اس کے علاوہ جعلی ووٹرز یا ایک سے زائد مرتبہ ووٹرز کے اندراج پنجاب میں 7 فیصد، سرحد میں 10 فیصد، سندھ میں 12 فیصد اور24 فیصد بلوچستان میں جبکہ فیڈرل ایریا میں 7 فیصد کے قریب تعداد ہے۔ غیر سرکاری تنظیم (فافین) نے لاہور کے ایک حلقے ، اوکاڑہ کے ایک حلقے اور دیگر متعدد شہروں میں حقیقی ووٹرز کے اندراج اور ڈالے گئے ووٹرز کی تعداد میں بھی واضح فرق کی رپورٹ جاری کی۔ اس کے علاوہ خواتین کے ووٹوں کے غلط کاسٹ ہونے کے بھی متعدد واقعات سامنے آئے فافین نے رپورٹ میں کہا کہ میڈیا نے الیکشن کے دوران نہایت غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیا اور تمام حلقوں میں دھاندکی کو روکنے کےلئے اہم کردار ادا کیا۔