لاہور(اردو ٹائمز سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بالرشعیب اخترکو جرمانے کی ادائیگی کے بغیرکرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے کے حوالے سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی جس کی سماعت 22ستمبر کو ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈکے قانونی مشیرتفضل رضوی نے لاہورہائی کورٹ نے 4جولائی کو فاسٹ بولرشعیب اختر کی 18 ماہ کی پابندی کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا لیکن اس میں جرمانے کے حوالے سے حکم امتناعی شامل نہیں تھا ۔ اس لیے قانونی طور شعیب اخترپاکستان میں اورپاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کرکٹ نہیں کھیل سکتے ۔ لیکن شعیب اختر کا موقف ہے کہ جب کیس کا فیصلہ ہو گاتووہ جرمانے کی ادائیگی کے پابند ہوں گے ۔ تفضل رضوی نے کہا کہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت بورڈ کی رہنمائی کرے کہ کیا فاسٹ بولرشعیب اخترکو جرمانے کی ادائیگی کے بغیر کھیلنے کی اجازت ہے یا نہیں ۔ درخواست کی سماعت 22 ستمبرکو لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سید زاہد حسین کریں گے ۔دوسری جانب کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کا نام ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں شامل کردیا ہے جبکہ اس سے قبل چیمپئنزٹرافی کے حتمی سکواڈ میں بھی شعیب اختر کا نام شامل تھا تاہم گزشتہ کئی ماہ سے جاری یہ بحث اب اپنے اختتام کو پہنچتی ہوئی نظر آرہی ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قومی سلیکشن کمیٹی 20اوورز کرکٹ ٹورنامنٹ میں شعیب اختر کی فٹنس کا جائزہ لینا چاہتی ہے ۔سلیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک ان کو وہ کھیلتا ہوا نہیں دیکھتے اس کی ٹورنٹو کپ کیلئے ٹیم میں سلیکشن کیسے کی جاسکتی ہے ۔شعیب اختر ان دنوں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی غرض سے انگلینڈ میں موجود ہیں ۔