لاہور(اردوٹائمزسپورٹس رپورٹر)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کیس کی دوبارہ سماعت کل بروز ہفتہ کو ہورہی ہے اور عدالت نے کرکٹ بورڈ کوکل اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔لاہور کی مقامی عدالت نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک پر تاحیات پابندی اور جرمانہ کیس کی سماعت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل رضوی آج عدالت کو سلیم ملک پر تاحیات پابندی اور جرمانے کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرینگے ۔ ایوان عدل لاہور میں سول جج ملک محمد الطاف کی عدالت میں خالد ایڈووکیٹ نے سلیم ملک اور تفضل رضوی نے پی سی بی کی نمائندگی کرینگے۔ گزشتہ سماعت کے دوران پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے عدالت سے مہلت مانگی جس پر عدالت نے کیس کی سماعت ہفتہ 20 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔ واضح رہے کہ سلیم ملک کا کیس کافی مضبوط دکھائی دے رہا ہے جس کی پیش نظر پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ سلیم ملک کے خلاف جرمانے کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے جبکہ سلیم ملک کے وکیل خالد ایڈووکیٹ نے امید ظاہر کی کہ سلیم ملک پر عائد تاحیات پابندی اور جرمانے کی سزا ختم ہو جائے گی۔سلیم ملک پر الزام ہے کہ انہوں نے جوئے اور میچ فکسنگ میں ملوث ہوکر پاکستان کو بدنام کیا جبکہ سلیم ملک نے ہمیشہ تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ورلڈکپ 1999ء کے فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف شکست پر پاکستانی ٹیم کے کپتان وسیم اکرم سمیت کئی سینئر کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کا الزام لگایا گیا جس پر لاہورہائیکورٹ نے وسیم اکرم پر ٹیم کی کپتانی کے علاوہ دیگر تمام عہدوں پر تعیناتی پر پابندی کردی تھی جبکہ سلیم ملک پر تاحیات پابندی لگادی گئی جس کو سابق کپتان نے عدالت میں چیلنج کیا ہوا لیکن گزشتہ دس سال سے چلنے والے کیس کا تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔