اسلام
آباد (اردو ٹائمز) 11 ستمبر 2001 میں امریکا کے نیویارک ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر کئے گئے
حملوں کے بعد امریکا اور برطانیہ میں پاکستانی طلباء کو شک کی نظروں سے دیکھا جانے
لگا ۔ ویزے کا مسئلہ ، داخلوں کا مسئلہ ، رہائش کا مسئلہ تقریبا ہر قسم کا مسائل پاکستانی طلبا کو درپیش رہنے لگے ۔ امریکا اور برطانیہ میں اس طرح کے سلوک کی بناء پر پاکستانی طلباء
نے اعلی تعلیم کے حصول کے لئے اب سویڈن کا رخ اختیار کر لیا ہے ۔ سویڈن میں اگرچہ
زندگی مہنگی ہے اور زبان کا بھی مسئلہ ہے لیکن وہاں تعلیم مفت ہونے کی وجہ سے
پاکستانی نوجوانوں نے سویڈن میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔ پاکستانی سویڈن
ایسوسی ایشن کے ذریعے سویڈن میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت حاصل کرنے کی کوششیں
جارہی ہیں۔ ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی تعلیم بھی مفت دی جاتی ہے ایسے پاکستانی طلبا جو ماسٹر ڈگری اور پی ایچ
ڈی کی ڈگری کے خواہش مند ہیں ان کو 900 یورو ہر ماہ اسکالر شپ دینے کا فیصلہ کیا
گیا ہے۔ اگرچہ سویڈن میں معیار تعلیم اورزندگی اونچا ہے لیکن ایک مسئلہ وہاں بھی پاکستانی طلباء کو درپیش ہے کہ وہ کوئی جزوی کام نہیں کر سکتے ۔ امریکا اور برطانیہ میں جزوی کام مل جاتا تھا جس سے تعلیم کے حصول کے لئے انہیں پاکستان سے کم رقم منگوانی پڑتی تھی لیکن سویڈن میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔