کراچی (اردو ٹائمز) پروفیسر انوار احمد زئی اعلی ثانوی
تعلیمی بورڈ کراچی کے چئیر مین نے انٹر سال اول آرٹس کے 40 پرائیویٹ امیدواروں کے
امتحانی فارمز منسوخ کر دیے ہیں جس کی وجہ ان کے جعلی کاغذات اور غلط تصدیقی اسناد
بتائی گئی ہے۔ جن امیدواروں کے امتحانی فارمز منسوخ کیے گئے ہیں ان امیدواروں کو
مطلع کر دیا گیا ہے۔ فارمز پر مختلف کالجز کے پرنسپلز کے جعلی دستخط اور جعلی
مہریں لگائی گئی تھیں، بورڈ کے عملے کو جب
ان فارمز کے جعلی ہونے کا شبہ ہوا تو انہوں نےفوراََ متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کے
سربراہوں سے خفیہ طور پر ان فارمز پر ان کے دستخطوں کے بارے میں تصدیق کی جس پر ان
پرنسپلز نے تحریری طور پراپنے دستخطوں کے جعلی ہونے کی اطلاع دی۔ تو پروفیسرانوار
احمد زئی نے بورڈ کے عملے کو کیلنڈر کے مطابق ان فارمز کو منسوخ کرنے کے آرڈز
جاری کر دیئے۔ جن امیدواروں کے فارمز منسوخ کئے گئے ہیں ان میں "کنول سائرہ
بنت غلام مصطفی، ہما بنت ڈیوڈ، کوثر بنت شاہد جمال۔ فاطمہ بنت سلطان محمود خان،
حنا اظہر بنت اظہر آفتاب، صبا کنول بنت ارشد حسن، فرحین اقبال بنت اقبال احمد، مہ
جبیں بنت ہارون الرشید، فخر افضال، بینش بنت اقبال نبی، ندا رفیق بنت محمد رفعیق ،
افروز جہاں بنت محمد طارق، زبیدہ ہارون بنت محمد ہارون، سارہ ابرار بنت ابرار احمد
خان، نیلم ثناء بنت عظمت اللہ، فرح ناز بنت احمد یار خان کے نام بھی شامل ہیں۔