|
اردو ٹائمز(نیوز) مانچسٹر مین ہزاروں کی تعداد میں شہر شہر سے آئے ہر نسل کے لوگون نے عراق اور افغانستان میں جاری جنگ کیخلاف مظاہر ہ کیا ۔مظاہرین نے مختلف جھنڈے ،پوسٹرز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور انگلینڈ دور دراز علاقوں سے لوگ مانچسٹر میں پہنچے تھے۔مارچ آل سینٹ پارک آکسفورڈ روڈ سے شروع ہوا ور جی سکس پہنچا ۔اس دوران سنٹرل لائیبریری کے پاس سے ہوتاہوا جب اس جگہ پہنچا جہاں لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس ہو رہی تھی تو جنگ کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں کے نعروں میں اور بھی شدت آگئی۔بچے ،نوجوان،لڑکیا ں اور لڑکے،ٹرید یونینز ،سکولوں کے اساتذہ ،صحافی اور سول سوسائٹی کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے لوگ موجود تھے۔ٹریڈ کونسل نیشنل یونین جرنلسٹ ،ایماکسی،ریسپیکٹ پارٹی یو کے،لیبر پارٹی اور دوسری تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔پولیس کی بھاری نفری موجود تھی اور مارچ کرتے ہوئے اس بڑے جلوس کی ”خفیہ کوریج “بھی کی جا رہی تھی۔پولیس کے گھڑ سوار دستے بھی موجود تھے۔جب سے امریکہ اور انگلستان نے عراق اور پھر افغانستان میں حملہ کیا ہے یہ جنگ کے خلاف ادارہ (Antiwar)پوری طرح سرگرم عمل ہے۔اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہیں پر مارچ منعقد کیا جائے جہاں پر لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس منعقد ہو اور ایم پی ای، منسٹرز اور وزیر اعظم موجودہوں اور مارچ کے شرکاءاپنا احتجاج ریکارڈ کرواسکیں۔یہ گھنٹوں جاری رہنے والا جلوس leftwingکے کنونشن پر ختم ہوا،لیکن ہر سال کی طرح برطانیہ،امریکہ اور نیٹوافواج کو واضع پیغام دےدیا گیا کہ عراق سے نکل جاﺅ۔افغانستان کو اس کے اپنے شہریوں کے حال پر چھوڑو اور ایران اور پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش مت کرو۔
|
|