اردو ٹائمز(نیوز) حضرت علی سیرت ِ رسول کے مکمل نمونہ تھے ۔آپ نے چھوٹی عمر میں ہی آنحضرت کے اعلیٰ کردار ،حسن و اخلاق،نیکی ، شفقت و محبت کو دیکھا اور بہت چھوٹی عمر میں اسلام قبول کیا۔آپکے اس فعل سے تاریخ اسلامی میں ایک سنہری باب کا اضافہ ہوا ۔آپ حد درجہ سنجیدہ ،حیادار،شجاعت و بہادری کا پیکر اور ذہین تھے۔حضرت علی ؑاصولوں کے اتنے سخت پابند تھے کہ کبھی بھی اصولوں پر سودا دنیا نہ کیااور اپنوں سے کبھی رعایت نہ کی۔سرکار دوعالم کے اسوہ حسنہ کی سختی سے پیروی کی ۔ان خیالات کا اظہار ادارہ صوت القرآن کے مرکزی ناظم اعلیٰ اور جامع مسجد ساﺅتھ آل کے خطیب قاری محمد امین چشتی السعیدی نے شیرِ خدا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ اگر غور کیا جائے تویہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ آپ علم و فضل اور شجاعت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔آپ خطبات و حکمت ،خوش اخلاقی اور موقع گفتگو کا بہترین نمونہ تھے۔طبیعت میں پرہیز گاری اور قناعت کی خصوصیات کو ٹ کوٹ کربھری ہوئی تھیں۔آخری لمحات تک سادہ فقیرانہ زندگی بسر کر تے رہے۔اسلامی تصوف کے کئی چشمے آپ کی ذات سے پھوٹے ہیں ۔قاری امین نے کہا کہ حضرت علی ؑ نے اپنے دور خلافت میں فسادات سے بھرے ہوئے حالات کے باوجود نظام حکومت میں اسلامی روح کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور عہد فاروقی کے نظام کو برقرار رکھا۔حضرت علیؑ نے غزوہ تبو ک کے علاوہ تمام غزوات میںشرکت کی اور مجاہدین میں ہمیشہ نمایاں رہے ۔جنگ بدرمیں آپ نے سالار قریش عتبہ کے بیٹوںولید اور شبیہ کو موت کے گھاٹ اتا ر دیا ۔جنگ احزاب میں آپ نے عرب کے مشہور پہلوان عمرو بن عبدوت کو ایک ہی وار میں ہلاک کر دیا اور اپکے ہی ہاتھوں سے قلعہ خیبر فتح ہوا۔اسی موقع پر آپ نے یہودکے سالار مرحب کو قتل کیا۔حضرت علامہ قاری خادم حسین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلافت راشدہ میں آپ مجلس شوریٰ کے ممتاز رکن تھے۔اکثر صحابہ کرام آپ کی رائے کو پسند فرماتے اور خاص کر حضرت عمر فاروقؓاسی وجہ سے زیادہ تر فیصلے آپکی رائے کے مطابق ہوا کرتے تھے۔قاری خادم حسین نے کہا کہ حضرت علیؑ پر صبح فجر کی نماز کے دوران ابن ملجم نے اپنی تلوار سے آپ ؑپر وار کیا اورآپؑ کی پیشانی مبارک پر کاری ضرب لگی۔چونکہ وہ زہر میں بجھی ہوئی تھی اسلئے زخم مہلک ثابت ہوا اور آپ نے موت وزیست کی کشمکش میں تیسرے روز 21رمضان المبارک ہفتہ کو شہادت نوش فرمائی۔آپؑ کی عمر63برس اور مدت خلافت پورے پانچ سال تھی۔حضرت علی ؑکا ہر عمل اہل ایمان کیلئے مشعل راہ ہے،دین دنیا میں کامیابی کیلئے ہمیں حضرت علی ؑکے اعلیٰ اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔مولانا شبیر حسین فاروقی ،مولانا محمد ارشد خان ،ڈاکٹر محمد راشد ضیائ،صاحبزادہ محمد عبدالصمد ہاشمی ،حافظ محمد شفیق ،حافظ محمد عرفان اور حافظ قاری محمد اسد نے بھی کانفرنس میں شرکت کی جس کے اختتام پر تبرک تقسیم کیا گیا۔
|
|