|
اردو ٹائمز(نیوز) صبر و رضا اور تقویٰ کا نام روزہ ہے۔روزہ دین و مذہب کا ایک عظیم رکن ہے۔اس روزہ کے ذریعے ہی تہذیب نفس و تزکیہ و باطن اور اخلاق و کردار کی اصلاح ہوتی ہے۔ اس کا تمام اقوام اور مذاہب میں وجود پایا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار اسلامک سنٹر ساﺅتھ آل لندن کے خطیب قاری محمد امین چشتی السعیدی نے عظمت صوم کے عنوان پر منعقدہ تقریب سے خطاب سے کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک میں چونکہ روزے دار کم کھاتا پیتا ہے اس وجہ سے اسکی روحانی قوت میں اضافہ بے شمار اضافہ ہو جاتا ہے،اسی طرح جب و ہ روزے کی حالت میں ہوتاہے تواسے اپنے نادار مسلم بھائیوں کی حالت زار پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔روزہ کی سبسے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نفس کشی اور جہاد اکبر کیلئے ایک زبردست ہتھیار ہے،مذہبی آزادی کیلئے کفار کیساتھ لڑنا ،جہاد اصغر اور نفس و شیطان کے پھندے سے رہائی پانے کیلئے مجاہدہ اور مقابلہ کرنا جہاد اکبر ہے۔روزہ رکھنے سے ایک انسان کے اندر دوسرے انسان کی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔بندہ صبر و استقلال کا عادی بن جاتا ہے اور اسی طرح چونکہ صبرو قناعت عادات حسنہ میں سے ہیں تو بلا شبہ روزہ صبر و قناعت کی عادات بھی انسان کے اندر پیدا کر دیتا ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ روزہ کھولنے کے وقت بسا اوقات روزہ دار صرف تھوڑے سے پانی پر ہی قناعت کرتا ہے اور جو کچھ مل جائے اس پر ہی قناعت کرتا ہے۔قاری امین نے کہا کہ روزہ صحتکا محافظ ہے کیونکہ تمام اطباء،حکماءاور ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ کم کھانا اور کم پینا انسان کی تندرستی کی بنیاد ہے،اگر یہ بات درست ہے تو یقیناََ ماہ رمضان میں ایک مفید وقت میں کھانے پینے سے پرہیز کرنا انسان کی صحت کیلئے بہت مفید ہے۔
|
|