اردو ٹائمز(نیوز) نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر یکطرفہ امریکی کارروائی خطرناک ہو گی جو خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔ حالیہ دہشت گردی کا واقعہ اس کا کھلا ثبوت ہے۔ تاہم صدر بش کو مایوسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اخبار نے تجویز پیش کی ہے کہ اپنے علاقے میں پاکستانی فوج کو کارروائی کرنی چاہئے اگر امریکہ نے اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے کسی بڑے رہنما کو ان علاقوں میں پکڑ لیا ہوتا تو امریکہ کی کارروائی کا جواز بنتا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے ”وقت تیزی سے گزر رہا ہے“ کے عنوان سے صدر زرداری کی امریکہ آمد پر اپنے اداریے میں ان کی نئی منتخب جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نسبتاً کم سیاسی و انتظامی تجربہ کار نئے صدر آصف علی زرداری کو موقع دینا چاہئے کہ وہ انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکیں۔ اخبار نے صدر زرداری کی جانب سے صدر کرزئی کو حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرنے کو بھی بہت مفید قرار دیا۔ تاہم پاکستان کی اس دھمکی کو بھی نمایاں انداز میں شائع کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی دراندازوں کو نشانہ بنایا جائیگا۔ اخبار کے مطابق یہ دھمکی اگر پاکستانی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے ہے تو بھی اور اگر صحیح ہے تو بھی دونوں ملکوں کیلئے نہایت خطرناک ہے۔ اخبار نے تجویز پیش کی کہ صدر بش کو پاکستانی قیادت پر واضح کر دینا چاہئے کہ یہ جنگ امریکہ کی ہی نہیں پاکستان کی بقاءاور جمہوریت کے استحکام کی بھی جنگ ہے اور پاکستانی قیادت کو اپنے عوام کو بھی یہ بات سمجھا دینی چاہئے کہ ان کی بقاءاور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انتظامیہ کو پاکستانی سرزمین پر حملوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کی بجائے پاکستان کی سول حکومت کو تقویت دینے کی پالیسی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کر سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر حملوں کے دوران اگر القاعدہ و طالبان کے کسی اہم رہنما کو حراست میں لے لیا جاتا تو پھر ان حملوں کا کچھ نہ کچھ جواز فراہم ہو سکتا تھا لیکن اگر پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا مقصود ہے تو یہ کام پاکستان کی فوج کو کرنا چاہئے اور امریکہ کو اس مقصد کے لئے اقتصادی امداد اور سیاسی حمایت فراہم کرنی چاہئے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف اتحادی افواج کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت میں اضافہ نہ صرف طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو اپنی افرادی قوت بڑھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے بلکہ ایسے اقدامات پاکستان کے نومنتخب صدر آصف علی زرداری کو کمزور کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں حالانکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے نومنتخب صدر کو جمہوریت کے فروغ کا وعدہ پورا کرنے کیلئے نہ صرف موقع دیا جانا چاہئے بلکہ امریکہ اس حوالہ سے پاکستان کو امداد فراہم کرے۔ اخبار نے امریکی کانگریس پر بھی زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پاکستان کیلئے ساڑھے سات ارب ڈالر کے اقتصادی پیکج کی جلد منظوری دے۔ اس کے علاوہ پینٹاگون افغانستان کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کو بہتر بنائے۔
|
|