وزیراعظم ہارپر 14اکتوبر کو الیکشن کروانے کیلئے گورنر جنرل سے ملیں گے
وزیراعظم ہارپر 14اکتوبر کو الیکشن کروانے کیلئے گورنر جنرل سے ملیں گے
اردو ٹائمز(نیوز) کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر آئندہ ہفتے گورنر جنرل سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں وہ پارلیمنٹ توڑنے کی درخواست کریں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ پارلیمنٹ برخواست ہونے کے بعد نئے الیکشن 14 اکتوبر کو کروائے جائیں گے۔ ابھی سے کینیڈا میں موجود سیاسی پارٹیوں نے آئندہ ہونیوالے انتخابات میں اپنی سٹریٹجی تیار کرنا شروع کردی ہے۔ وزیراعظم ہارپر نے تین اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ گورنر جنرل سے آئندہ ہفتے ملیں تاکہ 14 اکتوبر کو انتخابات کا اعلان کیا جاسکے۔ لبرل پارٹی نے کہا ہے کہ الیکشن کا اعلان کرے اور پارلیمنٹ کو توڑ کر وزیراعظم ہارپر اپنے ہی اعلان کردہ انتخابات کی تاریخ کی خلاف ورزی کررہے ہیں لیکن وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق حکومت کی اکثریتی پارٹی پر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ کنزرویٹو پارٹی ایک اکثریتی جماعت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی پارلیمنٹ میں قانون سازی کرتی رہی ہے۔ اب وزیراعظم ہارپر کا کہنا ہے کہ سابقہ اجلاس کو مدنظر رکھیں تو آئندہ اجلاس میں ویسی صورتحال ممکن نہیں رہے گی کیونکہ اپوزیشن پارٹیوں نے گزشتہ اجلاسوں میں حکومت کو گرانے کی دھمکیاں دی تھیں اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اپوزیشن لیڈر سٹیفن ڈیان نے بھی دھمکی دی ہے کہ موجودہ حکومت کو اکتوبر کے مہینے میں گرا دیا جائیگا۔ 14 اکتوبر کو انتخابات کروانے کی کئی وجوہات ہیں۔ یہ قبل از وقت انتخابات کو منسوخ کردیگی اور یہ انتخابات امریکہ میں ہونیوالے انتخابات سے پہلے ہوجائیں گے۔ ایک سروے میں جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کو لبرل پارٹی پر معمولی برتری حاصل ہے۔ اس میں سٹیفن ہارپر کو 33 فیصد جبکہ لبرل پارٹی کے ڈیان کو 31 فیصد سپورٹ حاصل ہے۔ وزیراعظم ہارپر نے اعلان کیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر حصہ لیں گے اور اس میں کامیابی حاصل کریں گے۔