|
ظہیرالدین بٹ ایشیاءٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تربیلا میں جہاں پر پاکستان سپیشل آپریشن ٹاسک فورس کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر ہے پر آج کل تین سو امریکی اہلکار مقیم ہیں جنہیں تربیتی اور مشاورتی گروپ کا نام دیا گیا ہے۔ کیا یہ اہلکار واقعی میں تربیتی مشن پر آئے ہیں یا ان کا کوئی اور مقصد ہے۔ خبر میں اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ 1990ءمیں بھی جب میاں محمد نوازشریف برسراقتدار تھے کے دور میں بھی امریکہ کا ایک خصوصی سی آئی اے یونٹ اسی جگہ پر مقیم تھا جس کا ٹاسک اسامہ بن لادن کی گرفتاری تھا۔ اس میں کہاں تک حقیقت ہے اس کا تو جواب میاں محمد نوازشریف ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں یہ روایت چل نکلی ہے کہ جو ہم کہتے ہیں دراصل ہم اس کے خلاف کام کر رہے ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک میں دہشت گردوں کیخلاف فاٹا اور قبائلی علاقوں میں کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن آج رمضان المبارک آخری عشرے میں داخل ہوگیا ہے لیکن ان کے خلاف کارروائی ایک دن بھی نہ رکی بلکہ اس میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ادھر دہشت گردوں نے اسلام آباد میں ہوٹل میریٹ کو تباہ کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ ان کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں۔ یہ دھماکہ کیوں کیا گیا اور کیوں ایسے وقت میں کیا گیا جبکہ پاکستان کے نومنتخب صدر آصف علی زرداری امریکہ روانہ ہونے والے تھے اور کہا جا رہا ہے کہ دراصل دہشت گردوں کا ٹارگٹ نئی حکومت تھی جن میں صدر اور وزیراعظم شامل ہیں اور وہ اسی ہوٹل میں تقریب افطاری میں شرکت کرنے والے تھے جسے چند گھنٹے پہلے جگہ کو تبدیل کردیا گیا۔ اگر ایسا واقعی میں درست ہے تو ایسی انفارمیشن دہشت گردوں تک کیسے ہاتھ لگی کہ انہوں نے ہوٹل کو اڑانے کا پروگرام بنایا۔ ظاہر ہے اس کے لیے وقت کی ضرورت تھی جس میں انہوں نے انتظامات کیے کہیں کوئی کالی بھیڑ سکیورٹی اور انتظامی محکموں میں شامل تو نہیں جو دہشت گردوں کو اطلاعات بہم پہنچاتی ہو جس کے بعد وہ اپنے منصوبوں کو تیار کرکے اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس کے لیے گہرائazی میں جا کر تفتیش کرنی ہوگی۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے تربیلا کے علاقے میں کئی کلومیٹر پر مشتمل ایک قلعہ اراضی بھی خریدی ہے اور وہاں پر 20 کنٹینر بھی پہنچائے گئے ہیں اور وہاں پر انتظام صرف اور صرف امریکیوں کا ہی ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستان اب اپنی سکیورٹی کے معاملات امریکہ کے حوالے کرنے جا رہا ہے جو کہ ملک اور قوم کی بہت بڑی بدقسمتی ہوگی۔ ادھر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے۔ آج کل ہمارے لیڈران کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے انہوں نے اپنا قبلہ ہی تبدیل کرلیا ہے۔ پہلے صدر اور وزیراعظم انتخاب کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ جاتے تھے لیکن اب ان کا قبلہ شاید واشنگٹن ہوگیا ہے جہاں پر حاضری ضروری سمجھی جاتی ہے۔ ملاقات میں امریکی صدر نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں (اللہ کرے ایسا ہی ہو) لیکن پاکستان سے ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکی جاسوسی طیاروں نے پھر قبائلی علاقوں پر پروازیں کی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے صدر پرویزمشرف کے اقدامات کی نفی کرتے ہوئے (جن کی وجہ سے ان کے کیسوں کا تیہ پانچہ ہوا اور ملک میں آئے الیکشن میں حصہ لیا اور صدر بھی منتخب ہوگئے) صدر جارج بش کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی اور دیگر دوستوں کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ادھر ہمارے آرمی چیف پرویز کیانی آج کل چین کے دورے پر ہیں۔ اللہ کرے ان کا یہ دورہ کامیاب ہو اور وہ سرخرو ہو کر اپنے وطن لوٹیں کیونکہ ہمیشہ چین نے پاکستان کی دوستی کو بڑے اچھے طریقے سے نبھایا ہے اور اصولوں پرقائم رہا ہے۔ دوست نما دشمنی کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی ابھی یہ بھی خبر ملی ہے کہ انگور اڈا میں قبائلیوں نے ایک امریکی جاسوس طیارے کو مار گرایا ہے اور اس کا ملبہ گاﺅں جلال میں گرا ہے۔ طیارے کو وزیر قبائل اور پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے نشانہ بنایا ہے۔ یہ طیارے گزشتہ کئی روز سے اس علاقے میں پروازیں کر رہے تھے۔ ادھر آئی ایس آئی نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ اللہ کرے یہ خبر درست ہو تاکہ عوام کی خواہشات پر پورا اترتی ہے۔ ہم نے انہی کالموں میں صدر آصف علی زرداری کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں جن میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر رہنے والی جماعتوں کو مدعو کیا جائے اور ملک کی سکیورٹی‘ دہشت گردی اور عالمی طاقتوں سے تعلقات‘ ناٹو اور امریکہ کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں ایک واضح پالیسی اختیار کرنے کے لیے بات چیت کی جائے پھر پارلیمنٹ میں اس پر بحث و مباحثہ کیا جائے اور پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اعلیٰ ترین اختیاراتی ادارہ کو عملاً بنا کر اس میں ملکی مسائل پر کسی متفقہ لائحہ عمل پر پہنچا جائے۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں کسی ایسے اہم مسئلے پر بحث و مباحثہ نہیں کیا گیا جبکہ تمام پارٹیاں اسے اعلیٰ اختیاراتی ادارہ بنانا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی طرف اس طرف قدم اٹھانے میں فقدان نظر آیا ہے۔ ملک کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملاً سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔
|
|