اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 25 Sep 2008 13:53:00

خوبصورت جواز

خوبصورت جواز

 کنکریاں.... عباس اطہر

جنرل ضیاءالحق کے ظالمانہ دور کا جواز یہ تھا کہ بھٹو دور میں جمہوری انسانی حقوق پامال کئے گئے۔ 12 اکتوبر 1999ءکے مارشل لا کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ ملک کی دونوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھیں اور میاں نواز شریف ”مغل اعظم“ بن گئے تھے۔ جواز ڈھونڈنے والوں نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیا کہ میاں صاحب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مینڈیٹ لیکر وزیراعظم بنے تھے۔ میریٹ ہوٹل پر حملے کی وکالت کیلئے یہ کہا گیا کہ وہاں امریکی میرین فوجیوں کا کوئی خفیہ آپریشن جاری تھا۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ممتاز عالم گیلانی کو گواہ بنا کر یہ ”انکشاف“ بھی کیا گیا کہ امریکی سفارت خانے کے ایک سفید ٹرک سے کچھ فولادی باکس اتارے اور ہوٹل کے اندر منتقل کئے گئے تھے۔ گیلانی صاحب نے اس الزام کی تردید کر دی ہے۔ بہرحال وہاں سے 2 امریکی فوجیوں کی نعشیں برآمد ہو گئی ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”میریٹ جہاد“ برحق تھا۔ چیکوسلواکیہ کا سفیر بھی شاید بلاوجہ نہ مارا گیا ہو وہ وہاں کچھ نہ کچھ ضرور کر رہا ہو گا۔ برٹش ائر ویز نے پاکستان کیلئے اپنی فضائی سروس ختم کر دی۔ جس ملک کے بڑے ہوٹل بھی غیر ملکیوں کیلئے محفوظ نہ ہوں وہاں کون آئے گا دیکھنے میں محض ایک ہوٹل ہی تباہ ہوا اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی صرف 70 ہے لیکن پاکستان کی معیشت کو ایک کاری ضرب لگی ہے۔ جس کے نتائج بہت ہی تباہ کن ہونگے۔ کیا کریں ہمارے محبوب دہشت گرد اپنا بدلہ نہیں چھوڑتے۔ انہیں ان کے بچوں کو امریکہ یا ہماری سکیورٹی فورسز قتل کرتی، وہ ہمارے بچے مار دیتے ہیں۔ جواز کتنا خوبصورت ہے؟
کل کے کالم پر کچھ خطوط حاضر ہیں۔ دہشت گردوں کے وکیلوں کی تالیف قلب کیلئے ملاحظہ ہوں۔
سویڈن سے زاہد مصطفی لکھتے ہیں۔آپ پی پی پی کے اچھے وکیل ثابت ہوئے ہیں۔میں اس قسم کے دھماکوں کے شدید خلاف ہوں لیکن آپ اس وقت کیوں خاموش تھے جب لال مسجد میں طلبا و طالبات کومسلسل دس روز تک گولیوں اور بموں کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔اگر پوش علاقوں میں لوگوں کی جانیں اہم ہیں تو غریب قبائلی علاقوں کے لوگ بھی قابل رحم ہیں۔انسانیت کا درجہ سب انسانوں کیلئے برابر ہے اس کیلئے شہروں اور دیہاتوں کا فرق کرنا درست نہیں۔لیکن آپ جیسے دانشور میریٹ دھماکے پر ہی لکھ سکتے ہیں لیکن قبائلی علاقوں کے مرنے والوں پر نہیں۔یہ اس لئے ہے کہ شاید آپ انہیں انسان ہی نہیں سمجھتے۔
نامعلوم شخص نے لکھا ہے کہ مجھے آپ کی سوچ، خیالات اور احساسات سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔آپ پیپلزپارٹی کے لئے جس طرح ہمدردی لینا چاہتے ہیں وہ شرمناک ہے۔میں سمجھتا تھا کہ آپ امریکہ کی بجائے عوام کیلئے ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہوں گے۔بیس ستمبر کو اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے۔آپ نے اس پر خوب لکھا ہے لیکن فاٹا اور قبائلی علاقوں میں جو بے گناہ خواتین و بچے مر رہے ہیں ان پر آپ کا قلم کیوں خاموش ہے۔یہ لوگ ہردوسرے روز مر رہے ہیں۔کیا آپ انہیں انسان نہیں سمجھتے۔میری گزارش ہے کہ آپ اس طرف بھی توجہ دیں۔
محمد کاشف لکھتے ہیں۔پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کا ہر محب وطن اس واقعے پر افسردہ ہے۔آپ کہتے ہیں کہ آپ دہشت گردوں کے خلاف ہیں لیکن یہ تو بتائیں کہ آپ کو یہ کیسے پتہ ہے کہ دہشت گرد ہیں کون۔آپ تو ایسے لکھ رہے ہیں جیسے آپ کو پتہ ہو کہ یہ دھماکہ کس نے کیا ہے۔رحمان ملک صاحب واقعے کے دس منٹ بعد وہاں پہنچے اور کہا کہ اس واقعے سے اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہوئی۔کیا رحمان ملک صاحب جان چکے تھے کہ یہ دھماکہ کس نے کیا ہے۔آخر آپ لوگ اس طرح کے بیان اتنے اعتماد سے کیسے دے دیتے ہیں۔آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ اس دھماکے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ نو گیارہ کے واقعے میں دونوں ٹاورز میں اسی طرح کا دھماکہ خیز مواد پہلے سے پہنچا دیا گیا تھا تو اسی طرح اس ہوٹل میں بھی دھماکے سے قبل امریکیوں نے خفیہ نقل و حرکت کی اور کچھ لوہے کے بکسے چوتھے اور پانچویں فلور پر بغیر کسی سیکورٹی کلیئرنس کے لے گئے ۔آپ نے خود بھی دیکھا ہو گا کہ آگ پہلے چوتھے اور پانچویں فلور پر لگی جس کے بعد نیچے کی طرف آئی۔اور پہلی اور دوسرے فلور کی بجائے چوتھے پانچویں فلور پر ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئیں۔اب اس سارے مسئلے سے فائدہ بھی امریکہ ہی اٹھائے گا۔فاٹا میں آپریشن تیز کر دیا جائے گا۔امریکہ اب براہ راست بمباری کرے گا اور پاکستان کے احتجاج کو خاطر میں نہیں لائے گا۔چند روز قبل سارا میڈیا امریکہ کے پاکستان میں حملوں پر مذمت کر رہا تھا لیکن اب توپوں کا رخ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کی طرف چلا جائے گا۔اب آپ کہیں کہ امریکہ کو کیا ضرورت ہے کہ بے گناہوں کو مارے۔تو جناب امریکہ کا یہ پرانا کھیل ہے۔اس نے عراق اور افغانستان میں لاکھوں بے گناہ شہریوں کو قتل کیا ۔یہ سلسلہ نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔
عارف بیگ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ نے تو ہوٹل میں امریکیوں کی موجودگی کو تسلیم نہیں کیا لیکن پینٹا گون نے اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جو دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود تھے۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہ جی شاہ سے زیادہ وفادار ثابت ہوئے ہیں۔
دلاور خان لکھتے ہیں کہ آپ کا موقف بالکل درست ہے۔میں آپکی تائید میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اسی طرح دہشت گردوں کے خلاف لکھتے رہیں کیونکہ دہشت گردی اس ملک کا ناسور بن چکی ہے۔اس ملک کے عوام امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس موقع پر یہ مذہبی قیادت کیوں خاموش ہے؟ یہ سوال خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
جدہ سے سلیم جاوید لکھتے ہیں کہ میں آپ کا پرانا فین ہوں۔لیکن عباس صاحب آپ بہتر جانتے ہیں کہ نوگیارہ کا حملہ کس نے کرایا۔یہ لوگ اپنے مفاد کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔اب امریکہ پاکستان میں داخل ہونے کے پر تول رہا ہے۔میریٹ ہوٹل ایک اہم ترین جگہ تھی اسی لئے اس مقام کا انتخاب کیا گیا۔ میں طالبان کو قریب سے جانتا ہوں وہ اسلام کی اصل روح سے ناواقف ہیں لیکن وہ اتنے بڑے درندے نہیں جتنا امریکہ ۔قبائلیوں کی یہ رسم بڑی پرانی ہے کہ جب ان کا کوئی آدمی قتل کر دیا جاتا ہے تو پھر ان کے سینے میں بدلے کی ایسی آگ جل اٹھتی ہے جو مخالف کے کسی عزیز کے قتل تک ٹھنڈی نہیں ہوتی۔لیکن مجھے یہ حملہ طالبان کا نہیں لگتا کیونکہ وہ صرف فوجیوں پر حملے کرتے ہیں اور انہی پر اپنا غصہ اتارتے ہیں۔ خدا کے لئے اس حملے کے اصل مجرموں کو پہچانئے۔دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور تیسری عالمی جنگ بہت قریب نظر آ رہی ہے۔


 


5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier