|
(منو بھائی) اسلام آباد میں بیس ستمبر کی سب سے بڑے ہوٹل میں سب سے زیادہ خوفناک اور تباہ کن دہشت گردی کی واردات کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور داخلہ رحمان ملک کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس کا اصل ہدف پارلیمنٹ کی عمارت تھا جہاں صدر آصف علی زرداری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے تھے اور جہاں پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی اور غیر سیاسی‘ سول اور فوجی شخصیات موجود تھیں مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ حملہ پورے پاکستان اور ملک بھر کے عوام اور ان کے جمہوری اور سیاسی مستقبل پر تھا۔ دہشت گردی کی اس واردات میں مارے جانے والوں میں جمہوریہ چیک کے سفیر برائے پاکستان‘ دو امریکی فوجی بھی شامل ہیں جبکہ ہوٹل کے ملبے میں سے ملنے والی اکیس لاشوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 80 ہوگئی ہے اور بلاشبہ یہ پاکستان کے لیے گیارہ ستمبر 2001ءجیسی خوفناک واردات بن جاتی ہے جس کے اثرات لاکھوں‘ کروڑوں پاکستانیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پوری قوم کی ذہنی کیفیت تبدیل ہو سکتی ہے۔ اجتماعی طور پر سائیکی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس نوعیت کی وارداتوں پر تبصرے کرنے اور تجزیہ کرنے والوں کے لیے یہ تقریباً ٹیپ کا مصرعہ بن چکا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کی مداخلت مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جو عناصر اپنی جان ہتھیلی پر لے کر مرنے اور مارنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں ان سے کسی بھی حالت میں بچاﺅ نہیں ہو سکتا مگر خود ہمارے اپنے عہد میں اسرائیل کی انتظامیہ نے یہ مشکل اور ناممکن کام کر دکھایا ہے۔ امریکہ میں بھی گیارہ ستمبر 2001ءکے بعد کوئی اس نوعیت کی واردات نہیں کی جا سکی۔ برطانیہ اور انڈونیشیا نے بھی، یہاں تک کہ سری لنکا جیسے محدود وسائل کے ملک نے بھی اپنے لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے قابل قدر اور لائق توجہ کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ اسلام آباد کی واردات میں جو اسلحہ بارود اور وسائل استعمال ہوئے ہیں ان کا تعلق کسی ایک آدمی یا چند لوگوں سے نہیں ہو سکتا اس واردات میں بہت سے لوگ استعمال ہوئے ہیں چنانچہ ملک کے حساس ادارے اگر اپنے فرائض کی انجام دہی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے تو اس سازش تک پہنچ سکتے تھے مگر وطن عزیز میں سرکاری اداروں اور ذمہ دار لوگوں کا یہ تقریباً معمول بن چکا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی بجا آوری کے بجائے دوسرے اداروں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اپنے اوپر آنے والے ہر الزام کا رخ کسی اور ادارے کی جانب موڑ دیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی غیر ذمہ داری کے ارتکاب کی وجہ کرپشن اور بددیانتی ہے جو سرطان کے موذی مرض کی طرح ہمارے شب و روز کے معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ میں اگر اس فرض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوں کہ اپنے علاقے سے کوئی اسلحہ گزرنے نہ دوں اور اس ذمہ داری کے ہوتے ہوئے میں رشوت لے کر کسی کو اسلحہ لے جانے کی اجازت دے دوں گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ شخص میرے بیٹے یا بھائی کو قتل کرنے آ رہا ہے چنانچہ میں براہ راست اپنے بیٹے یا بھائی کے قتل کا ذمہ دار ہو جاﺅں گا۔ ایک چھوٹی سی کوتاہی‘ غیرذمہ داری اور سہو نظر بہت بڑے حادثے اور نقصان کی ذمہ دار بن سکتی ہے۔ چنانچہ کسی کوتاہی‘ غیرذمہ داری‘ سہو نظر اور محنت کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صحیح فرمایا ہے کہ قوم اور ملک ایک منظم جنگجو مافیا کا سامنا کرنے پر مجبور ہو رہی ہے چنانچہ ہمیں دہشت گردوں کے خلاف اپنی نئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے اور یہ نئی پالیسی بنائی جائے گی۔ کسی بھی پالیسی کو تربیت دینے کے لیے تمام حالات و کوائف سے مکمل آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ محض ایک ”کلیشے“ بن چکا ہے کہ اتحاد اور اتفاق کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی اس سے پہلے کبھی نہیں تھی مگر قوم اور ملک کو جن حالات کا سامنا ہے ان حالات میں قومی سطح پر اتحاد اور اتفاق کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی اس سے پہلے واقعی نہیں تھی۔ ملک کے جمہوری‘ اقتصادی‘ سیاسی اور جغرافیائی وجود کو خطرات کا سامنا ہو تو اس سے زیادہ مشکل اور صبر آزما زمانہ اور دور اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ قوم اور ملک کو ہر سطح پر اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہے یہاں تک کہ ملک کے غریب اور نادار طبقے کی ابابیلوں کو بھی وحشت اور دہشت گردی کے ہاتھیوں کے خلاف صف آرا ہونے کے لیے اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے بلکہ یہ ابابیلیں ہی ہیں کہ وہ اپنی متحدہ اور متفقہ کوششوں سے آتش نمرود کو گلزار خلیل میں بدل سکتی ہیں اور ظلم و ستم کے ہاتھیوں کے لشکر کو تہس نہس کر سکتی ہیں مگر اس کے لیے ابابیلوں کو یہ باور کرانا اور یقین دلانا پڑے گا کہ یہ جنگ ان کی اپنی بقا کی جنگ ہے۔ ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ ان کی آئندہ نسلوں کے مفاد میں ہے۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں پاکستان کے فوجی حکمران افغانستان سے روسی فوجوں کو نکالنے کے ”امریکی جہاد“ میں فرنٹ سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے ذریعے اپنے ناجائز‘ غیرقانونی‘ غیر آئینی اقتدار کو طول دینے کی کوشش میں مصروف رہے اور پھر گیارہ ستمبر 2001ءکے حادثے کے بعد پاکستان کے فوجی حکمران افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کے حکمرانوں کو نکالنے کے امریکی جہاد میں فرنٹ سٹیٹ کا کردار ادا کرنے لگے اور اس طریقے سے اپنے ناجائز‘ غیرقانونی‘ غیرآئینی اقتدار کو طول دینے کی کوشش میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کی نئی عوامی اور جمہوری حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے اپنے ملکی اور قومی مفاد میں جنگ لڑ کر اپنے ملک اور اپنی قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے اور اس کوشش میں ملک کی تمام عوامی اور جمہوری طاقتوں کو جمع کرے اور ان کی مجموعی قوت کو زیادہ سے زیادہ مو¿ثر بنانے کی کوشش کرے۔ اس اجتماعی کوشش میں پاکستان کو یقینی طور پر کامیابی حاصل ہوگی کیونکہ پاکستان کا ہر فرد بشر ملک کے جمہوری مستقبل پر ایمان اور یقین رکھتا ہے۔ ٭٭٭
|
|