اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 25 Sep 2008 13:51:00

بے رحم حالات

بے رحم حالات
(عبدالقادر حسن)
جس دن نئے صدر جناب آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا، اسی دن افطار کے وقت اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میریٹ کے سامنے گیٹ پر زبردست دھماکہ ہوا جس سے گیس کی پائپ لائن پھٹ گئی اور پورا ہوٹل آگ میں جل گیا۔ پچاس سے زائد افراد اس آگ کی نذر ہوگئے اور بہت سارے زخمی ہوگئے۔ اس حادثے اور سانحہ نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگرچہ اس سے قبل کراچی، لاہور اور خود اسلام آباد میں ایسے حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں اس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے لیکن ایک تو دارالحکومت، دوسرے ایک بڑے ہوٹل اور تیسرے بڑے لوگوں کے اس تفریحی مرکز اور قیام گاہ پر ہونیوالے دھماکے نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا بھر میں یہ حادثہ موضوع بحث بن گیا۔ پاکستان کے اندر ”دہشت گردی“ کا سوال ایک بار پھر زندہ ہوگیا اور اس پر زبردست بحث شروع ہوگئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کا اصل نشانہ یہ ہوٹل نہیں تھا بلکہ وزیراعظم ہاﺅس تھا جہاں افطار ڈنر میں پوری حکومت موجود تھی۔ صدر، وزیراعظم، وزراءاور تینوں افواج کے سربراہ موجود تھے۔ یہ دہشت گرد اسے نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے وہ وزیراعظم ہاﺅس کے قریب نہ جاسکے اور اپنے پروگرام کے پورا نہ ہونے سے مایوس ہو کر انہوں نے اس ہوٹل کا رخ کرلیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قرب و جوار کی عمارتیں بھی ہل گئیں، شیشے ٹوٹ گئے اور وہ استعمال کے قابل نہ رہیں۔ سرحد ہاﺅس اور بلوچستان ہاﺅس خاص طور پر متاثر ہوئے۔ دوسری کئی عمارتوں کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ ہوٹل کے مالک صدر الدین ہاشوانی نے کہا کہ عمارتیں تو بن جاتی ہیں مگر میرے ہوٹل کے عملے کے لوگ کہاں سے آئیں گے اور ان کی زندگیوں کو کون واپس لائیگا؟ اس واقعہ کو وزیر قانون نے 9/11 سے تشبیہ دی اور اسے پاکستان کا 9/11 قرار دیا لیکن یہ 9/11 ایک کمزور ملک کا تھا اور قہر درویش بر جان درویش والا معاملہ تھا۔ یہ امریکہ نہیں تھا کہ اسے بہانہ بناکر دنیا کے ایک بڑے حصے کو اس سے محروم کردے۔ صدر صاحب کی پارلیمنٹ میں تقریر اس حادثے کی وجہ سے دب گئی۔ ویسے اس میں کوئی فیصلہ کن بات کہی بھی نہیں گئی تھی کہ اس تقریر کو نمایاں کرسکتی، سوائے اسکے کہ صدر صاحب نے پیشکش کی کہ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو صدر کے اختیارات کو کم کرسکے، یعنی 58(2)B اور 17 ویں ترمیم کے تحت اختیارات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ قوم یہ تقریر ٹی وی اور ریڈیو پر سن چکی تھی۔
جناب صدر کی تقریر اور اس بڑے سانحہ کے باوجود ایک ہی سیاسی تنازع جو پہلے سے جاری تھا، وہ بدستور زندہ ہے، یعنی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد وفاق میں جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت بنی، پنجاب اس کے اقتدار سے باہر رہا۔ بے نظیر بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری تک پنجاب میں پیپلز پارٹی کی عملداری نہیں رہی لیکن اس بار چونکہ وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی اس لئے پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شرکت اختیار کی اور وزارتیں حاصل کیں لیکن دونوں جماعتوں کا یہ اتحاد دیرپا ثابت نہ ہوسکا اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کے وزراءنے جلد ہی استعفے دیدئیے جو ان کی واپسی کے طویل انتظار کے بعد اب وزیراعظم نے قبول کرلئے ہیں۔ اس صورتحال کا اثر پنجاب پر بھی پڑا۔ یہاں پیپلز پارٹی کے وزیروں نے استعفے تو نہیں دئیے لیکن انہوں نے اپنے دفتروں میں جانا بند کردیا۔ اس پر مسلم لیگ (ن) نے ان سے کہا کہ وہ وزارتوں سے علیحدہ ہوجائیں لیکن اب تک عملاً اس کی نوبت نہیں آئی۔
اس دوران پنجاب میں سیاسی جوڑتوڑ عروج پر پہنچ گیا ہے اور اس میں (ق) لیگ کی بھی سنی گئی کیونکہ اس کے ارکان نے یہ عندیہ دیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے کیلئے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے پر تیار ہیں۔ اس جوڑ توڑ میں پنجاب کے گورنر اور ایک لیڈر میاں منظور وٹو پیش پیش ہیں۔ چنانچہ ایک ہی دن دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی طاقت ظاہر کرنے کیلئے افطار پارٹیاں دیں۔ ایک پارٹی (ق) لیگ نے، دوسری مسلم لیگ (ن) نے، دونوں نے اپنے اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ ارکان کو مدعو کیا۔ اس سلسلے میں فارورڈ بلاک والوں پر خاص توجہ دی گئی۔ خبروں میں بتایا گیا کہ چند ارکان نے چودھری صاحبان کی افطاری میں حاضری لگوائی، گھوم پھر کر اپنا چہرہ دکھایا اور پھر چپکے سے وہاں سے نکل کر مسلم لیگ (ن) کی افطاری میں جاتی عمرہ پہنچ گئے۔ اسی قماش کے لوگ کسی صوبے کی حکومت کا فیصلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ادھر مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف اپنی اعلیٰ کارکردگی دکھا کر اپنے پاﺅں مضبوط کررہے ہیں اور پنجاب کے لوگ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا مطلب یہ ہوگا کہ پنجاب میں ترقی کا جو سلسلہ چلا ہے اسے روک دیا جائے، مثلاً بہت بڑا اور سنگین مسئلہ آٹے کا تھا جو پنجاب میں بالآخر حل کرلیا گیا ہے اور اب آٹا پڑا ہے، خریدار نہیں ہیں ورنہ آٹے کے صرف ایک تھیلے کیلئے لوگ مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے تھے۔
لگتا یوں ہے کہ پیپلز پارٹی پوری قوت کے ساتھ اس پرانی روایت کو توڑنے پر لگی ہوئی ہے کہ وفاق میں تو اس کی حکومت ہو مگر پنجاب جیسے سب سے بڑے صوبے میں اس کے مخالف کی۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر صاحب اپنی آئینی حدود سے بہت آگے نکل کر دھمکیوں پر اتر آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) والوں کو دھکے دیکر صوبے کی حکومت سے نکال دیں گے۔ اس سلسلے میں انہیں منظور وٹو کی حمایت حاصل ہے جو پیپلز پارٹی کی ایک سابقہ حکومت میں بیس پچیس ارکان کے ساتھ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ بعد میں وہ گئے تو ایک صاحب سردار عارف نکئی کو وزیراعلیٰ بننے کا موقع مل گیا لیکن پیپلز پارٹی بدستور وزارت اعلیٰ سے محروم رہی۔ اب پارٹی ہر صورت میں یہ روایت توڑنا چاہتی ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے....؟
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier