اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 25 Sep 2008 13:50:00

بول میری مچھلی کتنا پانی

بول میری مچھلی کتنا پانی

وجاہت علی عباسی

جاپانی جو بھی کرتے ہیں خوب کرتے ہیں یہ ہمارا ماننا ہے ”پی پو چوں“ نام کچھ بھی ہو اگر کسی بھی چیز کے اوپر "Made in Japan" لکھا ہو تو یقیناً وہ چیز معیاری اور پائیدار ہو گی دوستی ہماری چین سے ضرور ہے لیکن چیزیں خریدتے وقت ہمارا جاپان پہ یقین زیادہ ہے یہ کہانی آج کی نہیں یہ کہانی تو فلیش بیک سے شروع ہوتی ہے۔ آج سے تیس سال پہلے جب پاکستان میں وی سی آر نہیں ملتا تھا اس وقت ہر حج پہ جانے والے پاکستانی سے عربی کھجوروں کے ساتھ ساتھ اکثر جاپانی وی سی آر کی بھی فرمائش کی جاتی تھی اب سونی ٹونی یا پونی کا تو ہم کو پاکستان میں پتہ نہیں تھا صرف یہ پتہ تھا کہ نام جو بھی ہو وی سی آر جاپان کا ہونا چاہئے۔
جاپانی ہمیشہ دنیا سے ایک قدم آگے رہتے ہیں۔ جب اسی کی دہائی میں انکے بتائے وی سی آر، ٹیپ ریکارڈر پوری دنیا میں مشہور ہو گئے تو انہوں نے وہ کام تائیوان اور ملیشیا سے کروانا شروع کر دیا اور خود اس سے زیادہ بڑے کاموں میں لگ گئے آجکل وہ ایک نیا کام کر رہے ہیں وہ وہیل مچھلی کو بولنا سکھا رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق ٹوکیو میں ”بلیوگا“ نامی وہیل کی تربیت جاری ہے تاکہ وہ عام لوگوں کی طرح بات چیت کر سکے جاپانیوں کے مطابق انسان کا ہزاروں سال کا خواب یعنی سمندری مخلوق سے بات چیت کرنا اب ممکن کر دیں گے۔
بلیوگا کی تربیت ابھی جاری ہے لیکن ریسرچرز تئیس سالہ ”بنک“ نامی وہیل کو تین لفظ سکھانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ بنک اب "Google ... Bucket ... Swimming fish" سمجھتی ہے اسکے سامنے ان میں سے کوئی بھی لفظ بولنے پر وہ سر ہلا ہلا کر اور عجیب و غریب آوازیں نکال کر یہ اعتراف کرتی ہے کہ ہاں ہاں بھائی مجھے یہ تینوں لفظ آتے ہیں۔
ہزاروں سال سے سمندر بھر میں مچھلیاں ایک جیسی پرسکون زندگی بسر کر رہی تھیں ہر مچھلی اپنی تیر سے تیر رکھتی یعنی اپنے کام سے کام رکھتی صبح صبح اٹھتی ادھر ادھر تیرتی کچھ کھاتی پیتی سمندر کے نظارے دیکھتی اور اس طرح مچھلیوں کے زندگی کے ہزاروں سال گزر جاتے لیکن اب مچھلیاں بھی بولنا سیکھ جائیں گی اور پھر سمندر کا حال بھی وہی ہو جائے گا جو دنیا میں زمین کا ہے سب سے پہلے مسئلہ یہ کہ اب بولنا سیکھ گئے ہو تو تعلیم بھی حاصل کرو چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کے بچے بیچارے صبح اب سکول جائیں گے سمندر میں کیا ہوتا ہے وہ سب انہیں سکھایا جائے گا مچھیروں سے لیکر ٹائٹینک تک یعنی جغرافیہ سے لیکر تاریخ تک اب ہر چیز کا امتحان ہو گا۔
پڑھ لکھ جائیں گے پھر مچھلیوں کو نوکری بھی کرنی پڑے گی اب تعلیم یافتہ مچھلی ایسے ہی فارغ تو نہیں تیر سکتی نہ سمندر کے کونے کونے میں مچھلیاں نوکری ڈھونڈتی پھریں گی۔ اپنے ملک سے باہر رہنے والے کئی پاکستانیوں کی طرح اب معاش کے لئے مچھلیوں کو بھی اپنا گھر چھوڑ کر دور جانا پڑے گا جو تکلیف ہم نے اپنی زمین چھوڑتے محسوس کی اب مچھلیاں اپنا پانی چھوڑتے محسوس کریں گی۔ مچھلی کھاتے وقت کانٹا چبھ جانے پر ہم نے کئی بار مچھلیوں سے تکلیف محسوس کی ہے اب وقت آگیا ہے کہ مچھلیاں بھی ہماری تکلیف محسوس کریں۔
اب مچھلیاں بھی اسٹیٹس‘ فیشن اور ”لوگ کیا کہیں گے“ کی فکر کریں گی۔ لگائی بجھائی جیسی چیزیں ہونگی ہمارے علاقے میں مچھیرے تو صرف بڑے بڑے جہازوں میں آتے ہیں....میرے بچے تو صرف منرل واٹر میں تیرتے ہیں۔ کیسی خوبصورت لگ رہی ہے ضرور اس نے ”گل لفٹنگ“ کرائی ہوگی۔ پڑوس میں رہنے والی مچھلی ہر وقت اپنے میاں سے لڑتی رہتی ہے.... کتنا اترا اترا کر تیرتی ہے یہ....جتنے منہ یعنی جتنی مچھلیاں اتنی ہی اب باتیں ہونگی۔
زبان آ جانے سے قوم کو کیا ملتا ہے؟ تو اس کا جواب ہے اپنی زبان میں وعدے کرنے والے سیاستدان ہم پانی کو ایسے صاف کردیں گے جہاں سے کشتیوں کے گزر کو رکوا دیں گے۔ مچھیروں کے جالوں سے بچنے کے لیے نئے پروجیکٹ شروع کردیں گے۔ ایک عام سی بغیر کسی فکر کے مچھلی زبان آ جانے پر عوام کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔ وہ عوام جس کے بار بار حکومت بدل جانے پر بھی نصیب ایک ہی جیسے رہتے ہیں چاہے وہ پانی پر ہوں یا زمین پر۔
ہم جاپانیوں سے بہت متاثر ہیں اور ان کی ہر تخلیق کو سر آنکھوں پر تسلیم کرتے آئے ہیں۔ سوئی لیکر سوزوکی تک ہم دل سے پاکستانی ضرور ہیں لیکن باہر سے پورے پکے جاپانی ہیں۔ جیسے سوزوکی پاکستان بھیجتے وقت جاپانیوں نے اسے ہمارے حساب سے تھوڑا بہت بدل دیا تھا ویسا ہی ہم اس تین لفظ سکھانے والی جاپانیوں کی تخلیق کو اپنانا چاہتے ہیں لیکن کچھ بدلاﺅ کے ساتھ ہم چاہتے ہیں جتنی محنت انہوں نے مچھلی بیچاری کو تین لفظ سکھانے میں کی ہے اتنی محنت وہ ہماری قوم کو تین لفظ بھلانے میں کر دیں وہ تین لفظ جو ہماری قوم ہمیشہ کے لئے بھولنا چاہتی ہے۔ دہشت گردی، مہنگائی اور غربت۔


 


1 / 5 (1 Votes)








© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: air purifier