اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 25 Sep 2008 13:49:00

زرداری کی نیویارک آمد پر خصوصی تحریر....لمحہ فکریہ

زرداری کی نیویارک آمد پر خصوصی تحریر....لمحہ فکریہ

ملک سلیم اکبر
بھٹو صاحب اپوزیشن کے رہنماﺅں کا عوامی جلسوں میں مذاق اڑانے میں ملکہ رکھتے تھے لیکن ہماری اپوزیشن نے بھی حکمرانوں کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ نوابزادہ نصراللہ نے نوازشریف اور بینظیر کے بارے میں کہا کہ کس سے بات کریں ایک سنتا نہیں دوسرا سمجھتا نہیں یعنی بینظیر کسی کا مشورہ کسی کی رائے کو سنتی نہیں تھی اور نوازشریف سمجھتے نہیں تھے۔ کچھ یہی حال آج کل ہمارے وزیراعظم گیلانی اور صدر زرداری کا ہو چکا ہے۔ دورہ امریکہ کے دوران وزیراعظم گیلانی نے بے سروپا انگریزی بول بول کر امریکی میڈیا میں خوب مذاق اڑوایا اور زرداری صاحب نے صدر بننے کے بعد قائداعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد رکھی کتاب میں انگریزی کا ایک جملہ لکھ کر اپنی انگریزی دانی کا بھرم کھول دیا۔ 9 حروف پر مشتمل جملے میں زرداری صاحب نے God یعنی اللہ کی جگہ Good لکھا اور Strength یعنی ہمت کے بجائے Strnt لکھا۔ آپ کی خدمت میں زرداری صاحب کی تحریر کا عکس شائع کیا جا رہا ہے جو ان کے دستخط کے ساتھ ہے۔


صدر زرداری صاحب نے 9 حروف کے انگریزی کے حملے میں لکھا کہ اللہ ہمیں پاکستان بچانے کی ہمت عطا فرمائے۔ اس ایک جملے میں دو غلطیاں تھیں شاید یہی وجہ تھی کہ آصف زرداری نے اسمبلی کے ممبران منتخب ہونے کیلئے مشرف کی قائم کردہ بی اے پاس ہونے کی شق آئین میں سے معطل کروائی۔ بینظیر بھٹو جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو یقیناً داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے زرداری جیسے ”عالم فاضل انگریزی دان“ کے ساتھ صبر شکر کے ساتھ زندگی گزار دی۔ واضح رہے کہ محترمہ انگریزی زبان پر مکمل دسترس اس انداز سے رکھتی تھیں کہ بعض اوقات تو انگریزی زبان ہی محترمہ کے تابع دکھائی دیتی تھی۔ ذاتی طور پر ہم ان لوگوں کے سخت خلاف ہیں جو خوامخواہ کا رعب جھاڑنے کیلئے غلط ملط انگریزی بولتے رہتے ہیں آخر اردو زبان بولنے میں کیا حرج ہے؟ روس‘ جاپان‘ چین‘ کوریا‘ ایران کے سربراہان بھی تو اقوام متحدہ تک میں اپنی زبان میں تقریریں کرتے ہیں۔ آخر اپنی زبان میں اپنا مدعا بیان کرنے میں ہمارے حکمرانوں کو شرم کیوں آتی ہے؟ ہم اور آپ ایسے بے شمار پاکستانیوں کو جانتے ہیں جو بالکل ان پڑھ ہیں لیکن امریکہ برطانیہ رہ کر فر فر انگریزی بولتے ہیں لیکن لکھنے سے قاصر ہیں۔ اس میں کوئی برائی نہیں بس زرداری صاحب دورہ امریکہ کے دوران کسی بھی جگہ انگریزی لکھنے سے پرہیز کریں تو دیار غیر میں ہم پاکستانیوں کا مزید مذاق اڑنے سے بچ سکتا ہے۔ امید ہے کہ زرداری صاحب قوم پر احسان ضرور فرمائیں گے۔ احسان تو ہمارے زرداری صاحب نے پاکستان میں ”جمہوریت“ لا کر بھی خوب کیا ہے پہلے مشرف پر بریونی دوروں کا فرض بخوبی انجام دیتے تھے اور بچارا وزیراعظم ہاتھ ملتا رہ جاتا تھا۔ اب خیر سے پاکستان میں بقول ہمارے حکمرانوں کے مکمل ”جمہوریت“ آ چکی ہے تو پھر پارلیمنٹ کی خودمختاری کہاں ہے؟ پارلیمانی نظام حکومت میں تو وزیراعظم ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق گو کہ صدر پاکستان کو کافی اہم اور بڑے صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں مگر آئین صدر پاکستان کو حکومت کا سربراہ نہیں بناتا اور نہ ہی حکومت کی پالیسیاں بنانے کا اختیار صدر کو دیتا ہے۔ ہمارے موجودہ انتہائی مسنح شدہ آئین کے مطابق بھی وزیراعظم ہی کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ داخلی اور خارجی پالیسیاں بنائیں جبکہ آئین کے مطابق صدر کو اندرونی اور بیرونی پالیسیاں بنانے کا کوئی اختیار بالکل بھی حاصل نہیں ہے ہاں البتہ صدر پاکستان حکومت کو کسی پالیسی کے بارے میں رسمی طور پر اپنا مفید مشورہ مفت دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم کی مرضی ہے کہ وہ یہ مشورہ قبول کریں یا نہ کریں۔
انتخابات سے پہلے یہ پی پی پی کا وعدہ بھی تھا کہ وہ وزیراعظم کے اختیارات کو بحال کریں گے اور مشرف کے ناجائز خود کو تفویض کئے گئے اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کرکے صدر کو رسمی طور پر سربراہ مملکت رہنے کا پابند بنائیں گے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ہمیں ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ مشرف بھی وہ تمام اختیارات حاصل کرکے ڈاکٹیٹر بنا ہوا تھا وہی اختیارات زرداری نے اپنی ذات میں تفویض کر لیے ہیں۔ خود آصف زرداری کے اتحادی نوازشریف چیخ چلا رہے ہیں کہ صدر زرداری 58-2-B کو ختم کرنے کا اعلان کریں۔ جب تمام اختیارات ایک فرد واحد کو مل جائیں تو وہ مشرف کی طرح پارلیمنٹ عوام اور فوج کے علم میں لائے بغیر قوم کا سودا کرتے رہے اور اب سنا ہے کہ زرداری صاحب نے بھی اسلام آباد کے قریب ایک اڈا عنایت کرکے خود کو برخورداری اور خدمت گزاری کیلئے مشرف سے بھی بڑھ کر خادم ہونے کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ”ناں“ نے چیف جسٹس کو زیرو سے ہیرو بنا دیا آخر ہمارے حکمران کب تک YES MAN رہیں گے۔ زرداری صاحب کی صدر بش کے ساتھ رسمی سی ملاقات کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے کل آج ہی انگور اڈا میں امریکی جاسوس طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔ میریٹ ہوٹل پر ہونے والی دہشت گردی نے بھی بہت سے اہم سوالات لا کھڑے کیے ہیں آخر ایک سو کلو یعنی تقریباً دو ہزار دو سو پاﺅنڈ وزنی بم لیے ایک ٹرک ایوان وزیراعظم‘ ایوان صدر‘ ملٹری ہیڈکوارٹرز سمیت پاکستان کے دارالخلافے کے اہم ترین سکیورٹی زون میں گھومتا رہا اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں دیکھتی رہیں؟ آگ لگنے کے بعد آگ بجھانے کیلئے اسنارکل اور دوسرے آلات برقی سیڑھی وغیرہ بھی موجود نہیں ہے۔ گویا آگ بجھ سکتی تھی لیکن جان بوجھ کر آگ کو بارہ گھنٹے تک جلنے کا موقع دیا گیا۔ عوام کے ذہنوں میں بہت سے اہم سوالات کے جوابات حکمرانوں کو جلد ہی دینے ہوں گے۔ گھر کے چراغ سے اپنے گھر کو جلانے کی حکمت عملی بھی عوام کو بتانی ہوگی۔
پاکستان زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد


1 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier