اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

قمر علی عباسی
امریکہ میں اس اعلان پر کوئی خوش نہیں ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اخراجات میں کمی کرنے کیلئے وزراءاور اعلیٰ افسروں کو سرکاری غیر ملکی دوروں کی اجازت دینے میں سختی کر رہے ہیں۔ یہ روایات کے خلاف ہے بڑا آدمی یورپ کے بڑے بڑے ملکوں میں ٹور کرتا اچھا لگتا ہے یہاں تک کہ انہیں اندرون ملک بھی غیرضروری سفر کرنے سے گریز کرنے کیلئے کہا گیا ہے‘ وزراءسے بھی کہا گیا ہے وہ بھی کفایت شعاری کے اصولوں کی پیروی کریں تاکہ وہ دوسروں کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔ وزیراعظم نے سرکاری کاموں کی آڑ میں غیرملکی دوروں کی اجازت حاصل کرنے کیلئے ایک سو سے زائد سمریاں مسترد کردی ہیں اور زیادہ تر سمریاں ایسی تھیں جن میں سینئر حکام کے ساتھ ایک درجن یا زائد اہلکاروں کے ہمراہ ہونے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
دفتر خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس رجحان میں کڑی نظر رکھے۔ اس فیصلے سے سینئر بیوروکریٹس میں بے اطمینانی پیدا ہو رہی ہے کیونکہ اس سے ان کے تفریحی دوروں پر پابندی لگ گئی ہے۔ انتہائی اعلیٰ سطح کے ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے وزراءسے بھی کہا ہے کہ وہ اپنی متعلقہ وزارتوں کے اخراجات پر چیک رکھیں۔ وزیراعظم وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکام سے رابطوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ استعمال کریں گے۔ اس طرح کی کانفرنس کیلئے سہولیات بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں میں فراہم کی جا رہی ہیں جس کی وجہ مواصلات کے ان ذرائع کا سستا اور مو¿ثر ہونا ہے۔
وزیراعظم جناب سید یوسف رضا گیلانی نے سینئر افسران کی اس سمری کو مسترد کرتے ہوئے جس میں ان سے ایک یورپین دارالحکومت میں ایک سیمینار میں شرکت کی اجازت دینے کیلئے کہا گیا تھا اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ جن افسران نے شرکت کی اجازت کیلئے سمری بھیجی ہے ان سے زیادہ مو¿ثر انداز میں وہاں تعینات پاکستانی سفیر پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
وزیر مشیر اور بڑے سرکاری افسر کی زندگی کے منصوبے یہی ہوتے ہیں کہ وہ کبھی یورپ جائیں امریکہ کی سیر کریں یا مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کا سرکاری دورہ کریں۔ یہ بھی سنا ہے کہ ان کے باورچی خانے‘ ڈرائنگ روم اور آرام گاہ میں ہر روز استعمال ہونے والی اشیاءبھی کسی ترقی یافتہ ملک سے سفر کے دوران‘ خریدی ہوئی ہیں اور اگر ”دورہ“ ختم ہو جائے تو یہ اشیاءکہاں سے آئیں گی؟ مقامی بازاروں میں یہ بہتات سے نہیں ملتیں پھر ان پر مکمل بھروسہ اور انتخاب نہیں کیا جا سکتا جو ہے اس پر گزارہ کرنا ہوتا ہے ہمیں تو اس کا افسوس ہے کہ ان بڑے لوگوں کے اہل خانہ کیا کریں گے جب انہیں خدا نہ کرے ”ساختہ پاکستان اشیائ“ استعمال کرنی ہوں گی۔
پچھلے دنوں اخبارات میں ان حضرات کے نام شائع ہوئے تھے جن کا علاج سرکار نے کرایا تھا اس رقم کو دیکھ کر اطمینان ہوا کہ اگر وہ باہر نہ جاتے تو مرض اور بڑھ جاتا اور کیا خبر ملک اور قوم ایک ذہین باصلاحیت عہدےدار سے محروم ہو جاتے‘ ملک کے مفاد میں لوگ اہم ہوتے ہیں سرمایہ نہیں‘ ایک شخص بیمار ہو جائے تو کام میں خلل پڑتا ہے اور نہ رہے تو کام بند ہو جاتا ہے۔ وزیر مشیر افسر شاہی کو غیرملکی علاج معالجہ دوا زیادہ صحت دیتی ہے وہاں کی آب و ہوا، ڈاکٹر، ہسپتال، ماحول انسان کو توانا کرتا ہے۔ ان سب کی صحت ضروری ہے تاکہ پاکستان میں تندرست و توانا صحت مند ماحول قائم رہے۔
انسان جس چیز کی عادت ڈال لے وہ اس کی ضروریات بن جاتی ہیں اور اگر وہ پوری نہ ہوں تو مزاج میں غصہ، چڑچڑا پن اور احساس محرومی پیدا ہوتا ہے‘ ایک بڑا سرکاری افسر اور عوامی نمائندہ غیرملکی دورے پر اچھا لگتا ہے وہ وہاں جا کر ملک کا نام شاپنگ پلازہ‘ ریسٹورنٹ‘ ہوٹل اور کلب میں روشن کرتا ہے یوں بھی جب آدمی ادھر ادھر کے کام کرے تو اس کیلئے دوسرا ملک بہتر ہوتا ہے سنا ہے غیرملکی دوروں پر جانے والے آپس میں سمجھوتہ کر لیتے ہیں کون کب کتنے دن کیلئے باہر نکلے گا اور کس ملک کی سیر کے بعد وہاں سے کیا لائےگا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ جب کوئی بڑا آدمی سرکاری خرچے پر ایک مہینہ میں کہیں نہیں جاتا تو وہ اپنے ماتحتوں پر غصہ اور اپنے بڑوں سے تعاون کرنا کم کر دیتا ہے۔ اس لیے خود اسے باہر بھیجنے کیلئے کسی سیمینار‘ افتتاح یا پھر کوئی ”خط“ دے کر باہر بھیج دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں پاکستانی انتظار کرتے رہتے ہیں کہ ان کے بڑے برسراقتدار رشتے دار کب ان کے پاس آئیں گے اور ساتھ میں اپنے وفد میں دو ایک ایسے جان پہچان والے لے آئیں گے جو وہیں رہیں گے۔
سرکاری دورے اگر بند ہوگئے تو اس کا منفی اثر پڑےگا پاکستان اپنی سرحدوں میں رہ جائےگا، اس کی شہرت، نیک نامی اور وقار کو کون بلند کرےگا۔
پاکستان کی روایت یہ ہے کہ جب سربراہ مملکت کسی ایک دورے پر جاتا ہے تو اس کے ساتھ پورا جہاز بھرا ہوتا ہے جس میں ہر طبقہ فکر اور خیال کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اپنے شروع کے زمانے میں سید یوسف رضا گیلانی نے یہی کیا تھا عام خیال ہے انہیں روم میں رہ کر وہی کرنا چاہیے جو رومن کرتے ہیں۔
٭٭٭

5 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier