ڈاکٹر شبیر احمد
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
(میر)
صاحبو! روزمرہ زندگی میں آپ کی نگاہوں کے سامنے بہت سے دلچسپ واقعات ہوتے ہیں لیکن آپ انہیں نظرانداز کرکے بلکہ بغیر دیکھے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے میر تقی میر نصیحت فرما گئے کہ ہر قدم پر نئی دنیا آباد ملے گی۔ یہ اور بات ہے کہ آپ سرسری طور سے گزر جائیں۔آج کچھ دلچسپ و عجیب باتیں ملاحظہ فرمائیے تاکہ نیرنگئی سیاست دوراں کہیں آپ سے آکسیجن ہی نہ چھین لے۔
امریکہ کے عظیم ترین صدر جس دن اپنا افتتاحی خطاب کرنے کانگریس پہنچے تو اچانک ایک کانگریس مین کھڑے ہو کر کہنے لگے مسٹر لنکن! آپ کبھی نہ بھولیں کہ آپ کے والد میری فیملی کے افراد کے لیے جوتے بنایا کرتے تھے۔ لنکن نے جواب دیا‘ جناب عالی! بلکہ وہ آپ کے گھر جا کر آپ کی فیملی کے لیے جوتے بنایا کرتے تھے۔ سب جانتے ہیں کہ جتنے اچھے جوتے وہ بناتے تھے کوئی اور نہیں بنا سکتا تھا۔ وہ ایک تخلیق کار تھے۔ البتہ اگر آپ کو کوئی شکایت ہے تو میں خود بہترین جوتے بنانا جانتا ہوں اور بلاقیمت نیا جوڑا بنا دوں گا۔ صاحبو! کانگریس پر تو سناٹا چھا گیا آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ ایک بڑے آدمی کی بڑی بات تھی یا چھوٹی بات۔
اب چار سوال پیش خدمت ہیں جنہیں فلوریڈا کے ایک اسکول میں بیوقوفی کا ٹیسٹ کہا جا رہا ہے۔ ”TEST FOR IDIOCY“
سوال (1) آپ ایک دوڑ میں حصہ لے رہے ہیں اور آپ نے دوسرے نمبر والے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بتائیے کہ اب آپ کونسی پوزیشن پر ہیں؟
جواب: کیا آپ نے فرمایا اول نمبر؟ جی نہیں! اگر آپ نے دوسرے نمبر والے کو پیچھے چھوڑا تو آپ نے اس کی جگہ لی لہٰذا آپ دوسرے نمبر پر ہیں۔
سوال (2) اگر آپ سب سے پیچھے والے شخص سے آگے بڑھ جاتے ہیں تو آپ کی پوزیشن کیا ہوگی؟
جواب: اگر آپ نے فرمایا کہ آپ آخری سے سیکنڈ ہوگئے تو جواب پھر غلط ہوگیا۔ دراصل آپ آخری شخص سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ بے چارہ تو آخری تھا اور آخری ہی رہے گا۔
سوال (3) اس سوال کے جواب میں کاغذ پینسل کیلکولیٹر استعمال کرنا منع ہے۔ ایک ہزار روپے لیجئے اور اس میں 40 جمع کر دیجئے اب ایک ہزار اور جمع کر دیجئے۔ اب 30 جمع کر دیجئے۔ ایک ہزار اور جمع کر دیجئے20 اور جمع کیجئے۔ اب ایک ہزار جمع کیجئے اور آخر میں 10جمع کیجئے۔ فرمائیے کہ ٹوٹل کیا ہوا؟
جواب: ہم جانتے ہیں آپ نے فرمایا ہے پانچ ہزار قطعی غلط۔ اب کاغذ پینسل یا کیلکولیٹر لے کر حساب کیجئے۔ صحیح جواب ہے 4,100 (چار ہزار ایک سو)
سوال (4) جب آپ جانتے تھے کہ آپ میں اہلیت کی کمی ہے تو آپ نے یہ سوال ٹرائی کیوں کئے؟
جواب: اس لیے کہ آپ نے میر صاحب کی نصیحت پر عمل نہیں کیا۔
اب اردو کے کچھ نامی گرامی شعراءکے دور اپنے ریکارڈ میں محفوظ کر لیجئے۔
امیر خسرو 1253ءتا 1325ئ۔ ولی محمد ولی دکن 1667ءتا 1707ئ۔ میر تقی میر 1723ءتا 1810ئ۔ نظیر اکبر آبادی 1740ءتا 1830ئ۔ بہادر شاہ ظفر 1775ءتا 1862ئ۔ خواجہ حیدر علی آتش 1778ءتا 1846ئ۔ محمد ابراہیم خان ذوق 1789ءتا 1854ئ۔ امیر مینائی 1826ءتا 1900ئ۔ مرزا اسد اللہ خان غالب 1796ءتا 1869ئ۔ حکیم مومن خان مومن 1801ءتا 1852ئ۔ نواب مرزا خان داغ دہلوی 1831ءتا 1905ئ۔ الطاف حسین حالی 1837ءتا 1914ئ‘ سید اکبر حسین اکبر الٰہ آبادی 1846ءتا 1921ئ۔ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال 1877ءتا 1938ئ۔ سید تفضل حسن حسرت موہانی 1875ءتا 1952ئ۔ جگر مراد آبادی 1890ءتا 1960ئ۔ جوش ملیح آبادی 1898ءتا 1982ئ۔ فیض احمد فیض 1911ءتا 1984ئ۔ سید ضمیر جعفری 1916ءتا 1999ئ۔ شکیل بدایونی 1916ءتا 1970ئ۔ ناصر کاظمی 1925ءتا 1972ئ۔ ساحر لدھیانوی 1921ءتا 1980ئ۔ جگن ناتھ آزاد 1918ءتا 2004ئ۔ قتیل شفائی 1919ءتا 2001ئ۔ ابن انشاء1927ءتا 1978ئ۔ حبیب جالب 1928ءتا 1993ئ۔ دلاور فگار 1928ءتا 1998ئ۔ مصطفی زیدی 1930ءتا 1970ئ۔ احمد فراز 1931ئ‘ پروین شاکر 1953ءتا 1995ئ۔ کہتے ہیں دنیا ایک گاﺅں بنتی جاتی ہے۔ پہلے کہا کرتے تھے زمین مختصر ہوتی جاتی ہے۔ پھر کہا چھوٹی سی یہ دنیا پہچانے راستے۔ تو صاحبو عالمی گاﺅں ”گلوبل ولیج“ یا Globalization کی ایک دلچسپ تعریف ہم نے کافی عرصہ پہلے شاید لکھی تھی۔ سنیے اور لطف اٹھائیے۔گلوبل ولیج کی تعریف ہے ”شہزادی ڈایانا کی وفات“ وہ کیسے؟ ایسے کہ ایک انگریز شہزادی انگریز شہزادے سے طلاق حاصل کرکے ادھر ادھر آنکھیں لڑاتے ہوئے مصر کے بوائے فرینڈ کی ڈور میں الجھ جاتی ہے۔ محبت کے نشے میں مدہوش ان کی گاڑی ایک فرانسیسی سرنگ میں ٹکرا جاتی ہے۔ گاڑی جرمن ہے جس میں ہالینڈ کا انجن لگا ہوا ہے۔ ڈرائیور بلجیم کا ہے جو سکاٹ لینڈ کی وہسکی پیئے ہوئے ہے۔ اس کا پیچھا کرنے والے اٹلی کے صحافی اور کیمرہ مین ہیں جو جاپانی موٹرسائیکلوں پر سوار ہیں۔ حادثے کے بعد ایک امریکن ڈاکٹر برازیل کی بنی ہوئی دواﺅں سے انہیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دلچسپ قصہ ایک پاکستانی مصنف تک کمپیوٹر کے ذریعے پہنچا۔ اس کمپیوٹر میں امریکن ٹیکنالوجی لگی ہوئی تھی۔ آپ جس اخبار میں یہ کہانی پڑھ رہے ہیں وہاں بھی کمپیوٹر استعمال ہوتا ہے جس میں تائیوان کے چپس لگے ہیں اور اس کا مانیٹر کوریا کا بنا ہوا ہے۔ اس کمپیوٹر کو سنگاپور کی ایک فیکٹری میں بنگلہ دیشی کاریگروں نے جوڑا ہے۔ سنگاپور تک اس کے پرزے ہندوستانی لاری ڈرائیوروں نے پہنچائے لیکن لاری کو کچھ انڈونیشی لوگوں نے ہائی جیک کرلیا۔ پھر سسلی کے ماہی گیروں نے یہ پرزے لاری سے اتارے اور بالآخر میکسیکو کے غیرقانونی طور پر امریکہ رہنے والوں نے نیویارک کی بندرگاہ پر پہنچا دیئے۔ فرمائیے کیا خیال ہے؟
آخر میں کچھ سچے لطیفے سن لیجئے۔ایک صاحب میکڈونلڈ کے ڈرائیو تھرو پر رکے اور نصف درجن چکن نکٹس کا آرڈر دیا۔ کھڑکی میں کھڑی خوبصورت سی ٹین ایج لڑکی بولی ہم چھ نو یا بارہ نگٹ آپ کو دے سکتے ہیں۔ آدھا درجن ہمارے پاس نہیں ہوتے۔ وہ صاحب مسکراتے ہوئے بولے‘ اچھا! مجھے 6 نگٹ دے دو۔ لڑکی نے فوراً ڈبہ تھماتے ہوئے معذرت چاہی‘ سر! ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے پاس نصف درجن کا آرڈر نہیں ہوتا۔ایک اور صاحب وال مارٹ سے کچھ سامان خرید کر کیشیئر کے پاس پہنچ گئے۔ اپنی چیزوں کے پیچھے انہوں نے سرخ پلاسٹک کی نشانی (سٹک) رکھ دی تاکہ پیچھے والے کسٹمر سے ان کا سامان ملاقات نہ کر سکے۔ کیشیئر لڑکی نے بڑی چابکدستی سے ہر چیز کا بار کوڈ گھمایا۔ جب سرخ سٹک اس کے ہاتھ میں آئی تو گھما پھرا کر اس پر بار کوڈ تلاش کرتی رہی۔ بولی اس پر قیمت نہیں لکھی۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ یہ کتنے کا لکھا ہوا تھا؟ وہ صاحب سمجھ گئے کہ یہ نئی چڑیا ابھی ابھی شاخ پر آ بیٹھی ہے۔ بجائے بحث میں پڑنے کے انہوں نے کہا میں نے ارادہ بدل دیا ہے۔ میں یہ سٹک نہیں خریدنا چاہتا۔
تو صاحبو! زندگی یوں بھی بسر ہوتی ہے۔
آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اب آپ کمپیوٹر ویڈیو پر ڈاکٹر شبیر احمد کے اردو اور انگریزی لیکچر جب چاہیں سن سکتے ہیں۔ اتاپتہ یہ ہے:
YOUTUBE.COM/DRSHABBIR1
شکریہ‘ نوازش۔