اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 18 Sep 2008 05:01:00

اقتدار نہیں، امتحان

اقتدار نہیں، امتحان

کنکریاں.... عباس اطہر
ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ بینظیر کی سالگرہ پر جیل سے ایک خط میں لکھا تھا۔
”زندگی محبت کاملہ ہے۔ نیچر کی ہر خوبصورتی کے سامنے اظہار عشق کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہے کہ میرا سب سے زیادہ جذباتی عشق اور جذبات خیز یا جسم میں جھرجھری پیدا کر دینے والا رومانس عوام کے ساتھ رہا ہے۔ سیاست اور عوام کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی شادی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”آدمی ایک سیاسی جانور ہے“ اور ریاست یا مملکت ایک سیاسی تھیٹر ہے۔ میں بیس سال سے زائد ہنگامہ خیز برسوں سے اس سیاسی سٹیج پر رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ مجھے اب بھی اب کوئی رول ادا کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ میں سیاست کے سٹیج پر رہوں۔ لیکن اگر مجبوراً مجھے سیاسی سٹیج سے علیحدہ رہنا پڑا تو میں تمہیں اپنے ”احساسات کا تحفہ“ دیتا ہوں۔ میرے مقابلہ میں تم زیادہ بہتر طور پر یہ ”جنگ“ لڑ سکو گی۔ تمہاری تقاریر میری تقاریر کے مقابلے میں زیادہ صحیح و بلیغ ہوں گی۔ عوام کے ساتھ تمہاری وابستگی مساوی طور پر مکمل ہو گی۔ تمہاری جدوجہد میں زیادہ توانائی اور جوانی کا جوش ہو گا۔ تمہارے اقدامات زیادہ جرات مندانہ ہوں گے۔ میں اس انتہائی مقدس مشن کی برکتیں تمہیں منتقل کرتا ہوں۔ صرف یہی تحفہ میں تمہیں تمہاری پیدائش کی سالگرہ پر دے سکتا ہوں“۔
4 اپریل 1979ءکو بھٹو صاحب کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ پہلے بیگم نصرت بھٹو اور پھر بینظیر صاحبہ ذوالفقار علی بھٹو کا علم اٹھا کر میدان میں نکلیں اور جنرل ضیاءالحق کے ظلم کا مقابلہ کیا۔ پیپلز پارٹی 1988ءمیں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر الیکشن میں کامیاب ہوئی۔ حکومت بنائی جسے غلام اسحاق خان نے برطرف کر دیا۔ وہ اپوزیشن میں بیٹھ گئیں۔ 1993ءکے الیکشن میں وہ ایک بار پھر کامیاب ہوئیں اور وزیراعظم بن گئیں۔ پھر پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق لغاری نے پھر حکومت توڑ دی۔ وہ الیکشن ہار گئیں۔ مقدمات کا سامنا کرتی رہیں اور پھر ملک سے باہر چلی گئیں۔ 18 اکتوبر 2007ءکو واپس آئیں۔ ان کے جلوس میں خودکش دھماکے ہوئے ٹارگٹ وہ خود تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے انتخابی مہم سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ 27 دسمبر کو محترمہ کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔ پھر بھٹو کے ”احساسات کا تحفہ“ اور ”جنگ“ آصف علی زرداری کے حصے میں آئی۔
18 فروری کے انتخابات میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر جیتی اس نے محترمہ بینظیر کی مفاہمت کی پالیسی کو آگے بڑھایا۔ وفاق اور صوبوں میں مخلوط حکومتیں بنائیں۔ آخری مرحلے میں آصف زرداری نے صدارتی الیکشن لڑا اور دوتہائی سے زائد اکثریت کے ساتھ منتخب ہو گئے۔
9 ستمبر ایوان صدر میں ایک یادگار دن تھا۔ ایک بڑا ہی جذباتی منظر۔ صدارتی حلف کے موقع پر ”جئے بھٹو“ اور ”زندہ ہے بی بی زندہ ہے“ کے نعرے بھی گونجے اور آنسوﺅں کی جھڑیاں بھی لگیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کیا طلسماتی شخصیت تھے کہ 42 سال پہلے انہوں نے اپنی پارٹی بنائی۔ 4 اپریل 1979ءکو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ایک ایسے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے جسے بعد میں کبھی عدالتی مثال کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ انہیں پھانسی دے دی گئی۔ 29 سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، اس عرصے میں بھٹو صاحب کے دونوں بیٹے بھی قتل ہوئے اور ان کے سیاسی ورثے کی مالک بیٹی بھی شہید ہو چکی ہے۔لیکن بھٹو کا طلسم اب بھی قائم ہے۔
بھٹو کے قتل کے دو تین سال بعد جب کرنل رفیع نے (ان کی پھانسی تک جیل میں پہریدار رہے) جنرل ضیاءالحق سے کہا تھا کہ وہ ایک کتاب لکھنا چاہتے تھے۔ جواب ملا تھا کہ آپ کیا بات کر رہے تھے۔ بھٹو کو تو ان کے خاندان والے بھی بھول چکے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف مسلسل یہی کہتے رہے کہ محترمہ بینظیر کو وطن واپس آنے کی اجازت نہیں دینگے لیکن وہ واپس آئیں اور پھر اپنے خون کا نذرانہ دے کر پیپلز پارٹی کو نئی زندگی بھی دے گئیں۔
اسے طلسم ہی کہا جا سکتا ہے کہ آج آصف علی زرداری پاکستان کے صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم ہیں۔ گیلانی صاحب بھی جیل میں رہے اور زرداری صاحب پر مقدمات اور الزامات بے حساب تھے۔ بین الاقوامی اور قومی میڈیا آخری دن تک ان کی کردار کشی میں لگا رہا۔ اس کے باوجود انہیں چاروں صوبوں سے 481 ووٹ ملے۔ آخری دن تک پیپلز پارٹی کے مخالفوں کی خواہش تھی کہ کوئی حادثہ ہو جائے۔ لیکن جو ہونا تھا وہ ہو کر ہی رہا۔
صدارتی حلف کے دوران، میں قدرت کی رضاﺅں اور اداﺅں پر حیران ہوتا رہا۔
جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کے نام کو ”دشنام“ بنایا اور قتل کرا دیا تھا۔
”مقتول“ 2008ءمیں بھی زندہ ہے جبکہ ”قاتل“ کے صاحبزادے کو پورے پاکستان سے ایک بھی ایسا حلقہ نہیں مل سکا، جس سے منتخب ہو کر وہ قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے۔
قتل گاہوں سے گزر کر بھٹو صاحب کا ورثہ آج آصف زرداری کے ہاتھوں میں آ پہنچا ہے۔ ملک کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔
یہ اقتدار نہیں، امتحان ہے۔
ایک بہت ہی سخت امتحان۔


 











 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier