|
(منو بھائی) کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری تو گوشت پوست کے انسان ہیں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شادی اگر ان کی بجائے کسی فرشتے سے بھی ہوگئی ہوتی تو پیپلز پارٹی سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والوں نے اس پر بھی الزامات کے طومار باندھ دینے تھے چنانچہ دنیائے اسلام کی پہلی وزیراعظم کے شوہر ہونے کے ”جرم“ کی سزا کے طور پر عمر قید سے بھی لمبی ”ماورائے عدالت“ قید کاٹنے پر ”مردِ حُر“ کا خطاب اور صدر مملکت پاکستان کا منصب پانے والے آصف علی زرداری نے 9 ستمبر 2008ءکی سہ پہر ایوان صدر اسلام آباد کی پانچویں منزل کے ہال میں اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب کا حلف اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کی سب سے زیادہ صبر آزما اور اتنی ہی مشکل آزمائشوں سے بھری ہوئی نئی قید کو قبول کرلیا اور اسکے ساتھ ہی ان کے دوستوں اور مخالفوں، خیرخواہوں اور دشمنوں نے اپنی اپنی امیدوں اور اندیشوں کی الٹی اور سیدھی گنتی شروع کردی ہوگی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے مرحلے میں ان کے پریس سیکرٹری بشیر ریاض نے آصف علی زرداری کو شام کے کھانے پر بلایا تھا تو ان کی آمد سے چند گھنٹے پہلے اسلام آباد پولیس اور سکیورٹی سٹاف کی ایک ٹیم وہاں پہنچ گئی۔ دعوت میں شریک ہونیوالوں کی فہرست مانگی اور پورے گھر کی تلاشی لی، ہر جگہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ آصف علی زرداری تشریف لائے تو میں نے پولیس کی مذکورہ بالا کارروائی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا ”منو بھائی! ہم تو حکومت میں بھی پولیس والوں کے قیدی ہیں اور اپوزیشن میں بھی پولیس ہی کے مہمان ہوتے ہیں اور بقول شاعر ”تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا“ 1973ءکے آئین کی منظوری کے بعد 1977ءسے 1988ءتک کے ضیاءالحقی 11 سالوں اور پھر 1999ءسے اگست 2008ءتک کے پرویز مشرفی 9 سالوں سے بچ رہنے والے نام نہاد جمہوری عرصے میں تیسری مرتبہ وطن عزیز کو جمہوری رسوم و رواج اپنانے کی اجازت ملی ہے اور سردار فاروق لغاری کے بعد جمہوری طریقے سے منتخب ہونیوالے پیپلز پارٹی کے صدر مملکت آصف علی زرداری کی ذاتی دعوت انکی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل کرنے والے صحافیوں کے ہمراہ میں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ایوان صدر اسلام آباد کے اندر داخل ہوا تو ذہن میں خوشی اور دکھ دینے والی بے شمار یادوں کا ہجوم تھا۔ 55 سالوں پر پھیلی ہوئی ان یادوں میں اگر قائد عوام اور دختر مشرق سے وابستہ یادوں کی خوشگوار جھلکیاں تھیں تو جیالے محنت کشوں اور پارٹی کارکنوں کی ننگی پیٹھوں پر برسائے جانیوالے کوڑوں اور پھانسی کے تختوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اذیتناک مناظر بھی تھے اور شاعر کے یہ مصرعے بار بار یاد آرہے تھے سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے حلف برداری کی تقریب کے دوران اگر ایوان صدر کے سنجیدہ ماحول میں پارٹی کے جیالوں اور جمہوریت کے متوالوں کے نعرے گونج رہے تھے تو اس سے شاہی دربار کی توہین نہیں ہورہی تھی۔ آمریت سے نجات پانے والی جمہوریت اپنے آپ کو بحال ہوتے دیکھ رہی تھی اور یہ نعرے اس راہ میں جسم و جاں قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے اور وہاں صرف صنم بھٹو، بلاول بھٹو زرداری، بختاور اور آصفہ ہی نہیں تھے کہ جن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس ہال کے بیشتر حاضرین اور ناظرین کی آنکھیں ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بچوں کے غم میں بھیگی ہوئی تھیں۔ گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں پوری دنیا اور براعظم ایشیا کے بیشتر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی عوام کے انقلابی شعور کے ابھار سے دہشت زدہ استحصالی طبقہ بدترین دہشت گردی پر اتر آیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سرکردگی میں ابھرنے والی عوامی لہر کو تلف کرنے کا فریضہ جنرل ضیاءالحق کو دیدیا گیا تھا جس نے بھٹو اور شاہنواز کو موت کے گھاٹ اتارا اور یہ سلسلہ فاروق لغاری اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار تک چلتا رہا۔ میر مرتضی المرتضیٰ کے سامنے سکیورٹی سٹاف کی گولیوں سے قتل ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو جب کراچی کے بے مثال جلوس کو دیکھ کر پیپلز پارٹی کے ابتدائی منشور کی جانب توجہ دینے لگیں تو انہیں بھی موت کے گھاٹ اتارنا لازمی قرار پایا۔ کچھ ایسے ہی دلدوز واقعات اور حادثات پر شاعر نے پوچھا تھا کہ اور کتنوں کا لہو چاہئے اے ارض وطن؟ کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا؟ حلف برداری کی تقریب کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں صدر آصف علی زرداری نے بڑے تحمل اور سکون کے ساتھ اپنے آئندہ کے صدارتی طرزعمل کی ایک مثبت جھلک دکھائی ہے۔ کم سے کم الفاظ اور بہت محتاط انداز میں تسلی بخش جواب دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو ایوان صدر سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور عوام کو قوت کا سرچشمہ قرار دینے کا رویہ اپنائیں گے۔ تصادم کی سیاست سے گریز اور پرہیز کریں گے۔ ملک اور قوم کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے مفاہمت اور مصالحت کی سیاست کو اپنائیں گے۔ ملک اور قوم کے سیاسی مستقبل کو ضیاءالحق، فاروق لغاری اور پرویز مشرف جیسے عناصر سے محفوظ رکھنے کا یہی طریقہ ہے۔ سیاسی ماہرین جانتے ہیں کہ تصادم کی سیاست بہت آسان ہوتی ہے مگر اتنی ہی زیادہ نقصان دہ بھی ہوتی ہے جبکہ مفاہمت اور مصالحت کی سیاست کیلئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ جمہوری سیاست کے رویے اپنانے پڑتے ہیں۔ جمہوری سیاست کے رویے اپنانے کیلئے بہت زیادہ صبر اور اتنی ہی زیادہ برداشت سے کام لینا پڑتا ہے۔ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ بغیر کسی عدالتی سزا کے عمر قید کی معیاد سے زیادہ عرصہ سلاخوں کے پیچھے گزارنے والے صدر آصف علی زرداری نے اپنی ازدواجی زندگی کے 25 سالوں میں اس صبر اور برداشت کا عملی ثبوت فراہم کیا ہے مگر اس سے بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور مفاہمت اور مصالحت کا ٹریفک دوطرفہ ہوتا ہے، یکطرفہ نہیں ہوتا۔ تصادم کی سیاست سے جنم لینے والے مفاہمت اور مصالحت کی سیاست سے گھبراتے ہیں کہ کہیں استعمال نہ ہوجائیں لیکن جس صبر اور برداشت کے مظاہرے کے ذریعے سابق کمانڈو جرنیل کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ استعمال نہ ہوتے ہوئے بھی استعمال ہورہے ہوتے ہیں مگر انہیں پتہ نہیں چلتا کہ وہ استعمال ہورہے ہیں۔ جن اندیشوں کی زد میں آنے پر احتساب بیورو کے سابق سربراہ سیف الرحمن کی چیخیں نکل گئی تھیں اور جن خطرات سے بچنے کیلئے دس سال کی جلاوطنی اور سیاست سے کنارہ کشی کا اقرار نامہ لکھا گیا تھا، صدر آصف علی زرداری نے ان اندیشوں اور خطروں میں ساڑھے گیارہ سالوں کی قید کاٹی ہے۔ اپنے خلاف ایسے بھیانک الزامات کو برداشت کیا ہے جن کا کوئی ایک ثبوت بھی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ اگر اس قسم کا کوئی الزام ہمارے کسی پرانے تجربہ کار سیاستدان پر عائد کیا جاتا تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے اور چھلک جانے کی بجائے ٹوٹ بھی سکتا تھا مگر ان حالات میں آصف علی زرداری نے مفاہمت اور مصالحت کی سیاست کا ایک نیا باب کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٭٭٭
|
|