|
( غیر سیاسی باتیں........عبدالقادر حسن) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے صدر بن گئے ہیں۔ اس سال 18 فروری کو عام انتخابات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ان کی صدارت پر ختم ہوا ہے۔ 9 ستمبر کو انہوں نے اسلام آباد کے ایوان صدر میں اپنے عہدے کا حلف لیا۔ اسلام آباد کی بدصورت سرکاری عمارات میں ایوان صدر بھی ایک بدصورت عمارت ہے جس کا نقشہ ایک امریکی ماہر تعمیرات نے تیار کیا اور ایک پاکستانی تعمیراتی فرم نے اسے تعمیر کیا۔ اس عمارت میں اسلامی فن تعمیر کی ایک ہلکی سی جھلک بھی نہیں ملتی اور اسلامی جمہوریہ کی یہ اہم ترین عمارت کسی مغربی ملک کی ایک عام سی عمارت دکھائی دیتی ہے جو مغربی طرز تعمیر کے حسن سے بھی محروم ہے۔ اس عمارت کے دربار ہال میں ہمارے نئے صدر نے مغربی لباس میں ملبوس انگریزی زبان میں حلف لیا۔ صرف جو آیات تلاوت کی گئیں وہ عربی زبان میں تھیں مگر ان کا ترجمہ انگریزی زبان میں پیش کیا گیا۔ چند غیر ملکی سفیروں کو چھوڑ کر تمام مہمان پاکستانی تھے البتہ ایک مہمان افغانستان سے آیا تھا جو امریکہ کے اس مقبوضہ ملک میں امریکہ کا ایک ادنیٰ اہلکار ہے اور مسلم دنیا کے خلاف امریکی یلغار کی ایک علامت بنا ہوا ہے۔ یہ تھا صدر افغانستان کا حامد کرزئی جس کی آمد اور پھر صدر پاکستان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کو پاکستانیوں نے بہت برا منایا اور یہ سمجھا کہ ہمارا اپنا صدر بھی اپنی پالیسیاں شاید حامد کرزئی کی پالیسیوں کے مطابق بنائے گا کیونکہ کرزئی کی یہ غیر معمولی پذیرائی کوئی دوسرے معنی نہیں رکھتی۔ پاکستانیوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ حامد کرزئی کو ایسے اہم موقع پر کیوں بلایا گیا اور پاکستانی قوم کو کیا پیغام دیا گیا۔ جناب آصف زرداری مسلسل کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے الیکشن پیپلزپارٹی کے قدیمی نعرے روٹی کپڑا مکان پر جیتا ہے اس لئے وہ اب عوام کو ان کی ضروریات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن نئی حکومت نے اپنی حلف برداری کے دن ہی بجلی کے نرخوں میں اکتیس سے پچاس فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی طرح بجلی کی مہنگائی سے بھی عام مہنگائی مزید بڑھے گی اور یہ ایک واقعہ ہے کہ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں مثلاً آٹا اگرچہ ملنا شروع ہو گیا ہے لیکن اس کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں امیر اور غریب میں فرق تو ہمیشہ رہا ہے لیکن اتنا زیادہ کبھی نہیں رہا اور غریب بھی روٹی کھاتا رہا ہے اگر غریب کو روٹی نہ ملی تو کہیں وہ اسے چھیننا نہ شروع کر دے۔ خوراک کا سامان کسی بھوکے کے سامنے پڑا ہو تو ہو سکتا ہے اس کے ہاتھ اس کی طرف اٹھ جائیں۔ پیپلزپارٹی کو ایسے ہی حالات میں حکومت ملی ہے۔ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ پارٹی کے دو بڑے حکمرانوں جناب صدر اور جناب وزیراعظم کے درمیان خوش پوشی کا مقابلہ جاری ہے۔ وہ جب بھی دکھائی دیتے ہیں نئے سوٹ میں ملبوس ہوتے ہیں۔ جناب صدر نے حلف برداری کے دن یکے بعد دیگرے تین تقریبات میں شرکت کی۔ حلف برداری، گارڈ آف آنر اور سیاسی کانفرنس، ان تینوں میں انہوں نے سوٹ تبدیل کیا۔ اسی طرح گیلانی صاحب تو شروع دن سے زیادہ سے زیادہ سمارٹ اور خوش پوش بننے کی کوشش میں ہیں۔ جن حکمرانوں کو اپنی ذاتی نمائش کی اتنی فکر ہو اور وہ اس قدر غیر ضروری طور پر بن سنور کر رہنے پر مصر ہوں وہ کسی دوسرے کی کیا فکر کریں گے۔ پاکستان میں ان دنوں افغان صدر کرزئی کی آمد زیر بحث ہے۔ کون نہیں جانتا کہ کرزئی صاحب کو امریکہ نے بت بنا کر کابل میں بٹھا رکھا ہے۔ وہ صرف اور صرف امریکی پالیسیوں کی تائید کرتے رہتے ہیں اور امریکی فوج افغانستان کی سرحدوں سے نکل کر پاکستان پر حملے کرتی رہتی ہے۔ ہزاروں پاکستانی امریکی فوجوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب تو امریکی فوجی پاکستان میں داخل ہو کر زمینی کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور پاکستان کی خودمختاری کی توہین کر رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان امریکی تائید میں اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ اسے واپسی کا راستہ نہیں مل رہا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اپنے آپ کو اور ملک کو امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا تھا۔ شنید ہے کہ انہوں نے کئی خفیہ معاہدے بھی کئے تھے جن میں ایک یہی ہے کہ امریکہ پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو سکتا ہے۔ اور اپنے دہشت گردوں کا دور دور تک تعاقب کر سکتا ہے۔ امریکہ ان دنوں یہی کر رہا ہے اور ہماری حکومت امریکہ کے خلاف بیانات دے رہی ہے۔ چند جہاز بھی اڑے ہیں۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر رہی یا کچھ نہیں کر سکتی کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور معاہدے ایک طاقت ور کے ساتھ ہیں جو توڑے نہیں جا سکتے۔ حامد کرزئی اسی امریکہ کے فرنٹ مین ہیں۔ وہ ایک طرف امریکی احکامات کی بجا آوری کرتے ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے نئے اسرائیل، ”بھارت“ کی ناز برداری پر بھی مجبور ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحدوں کے قریب چودہ کے قریب اپنے چھوٹے سفارتی دفاتر کھول رکھے ہیں جہاں سے وہ بلوچستان اور صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں تخریب کاری کرتے ہیں۔ بھارت ایجنٹ بھاری رقوم لے کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور پاکستان کے اندر سرگرم ہو کر مشکوک گروہوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ حامد کرزئی کے افغانستان سے ہو رہا ہے۔ کرزئی کو پاکستانی قوم اپنا دشمن اور دشمنوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے لیکن جب وہ شب خوابی کے لباس میں ملبوس اس شخص کو اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم موقع پر مہمان خصوصی بنا دیکھتی ہے تو اس کا دل جلتا ہے۔ کچھ اس طرح کی پہلی جھلک دیکھی گئی ہے اس نئی حکومت کی۔
|
|