وجاہت علی عباسی
ہم ہر ہفتے پچاس ملین کی لاٹری جیت جاتے ہیں۔ ایسا ہمیں نہیں بلکہ نائیجیریا میں بیٹھے ان لاٹری کمپنی والوں کو لگتا ہے جو ہر ہفتے ہمیں ای میل کے ذریعے یہ مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکے ہاتھوں لالچ کی مار کھائیں۔ اگر آپ ابھی تک نہیں سمجھے تو ہم بات کررہے ہیں ان سو بلین فراڈ ای میل کی جو ہر روز دنیا بھر میں بھیجی جاتی ہیں، یعنی انٹرنیٹ کا گبر سنگھ ”اسپیم میل“
چلئے شروع سے شروع کرتے ہیں۔ 1978ءمیں جب انٹرنیٹ کا نام آریانیٹ تھا اور اسکے صرف چھ سو استعمال کرنے والے تھے ”گرے تھرک“ نامی ایک شخص نے پہلی بار اسپیم ای میل بھیجی جس میں انہوں نے سب لوگوں کو ایک Presentation میں آنے کی دعوت دی تھی۔ کئی لوگوں نے ای میل دیکھ کر Presentation میں شرکت کی اور اس طرح گرے بھیا پوری دنیا کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی شامت لے آئے۔ 2005ءمیں 30، 2006ءمیں 55 اور آج 100 ملین فراڈ ای میل پوری دنیا میں بھیجی جاتی ہیں۔ ان ای میل میں سے 80 فیصد دو سو چھوٹی بڑی کمپنیاں بھیج رہی ہیں جس میں سے 73 فیصد کمپنیاں سروے کے مطابق چین میں واقع ہیں۔ چلئے یہ تو سٹوری کے ولن کا اچھی طرح تعارف ہوگیا۔ اب کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔
روز صبح ای میل کھولنے پر سکرین بتاتی ہے کہ ہمیں 20 نئی ای میلیں آئی ہیں۔ اب بھائی لوگوں میں مشہور ہونگے تو ........ افسوس یہ سوچ دل میں پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے چونکہ میل بھیجنے والوں میں سے کوئی بھی نام پاکستانی نہیں لگ رہا ہوتا، ارے پاکستانی تو چھوڑئیے ناموں سے تو وہ انسان بھی نہیں لگے رہے ہوتے۔ خیر اب میل آئی ہے تو کھول کے دیکھنا تو ہمارا فرض بنتا ہے اسی لئے فوراً میل پر کلک کرتے ہیں۔ پہلی میل کھولتے ہی پتہ چلتا ہے کہ افریقہ میں ایک پانچ سالہ بچی بہت بیمار ہے جسے ہمارے بینک اکاﺅنٹ کی شدید ضرورت ہے۔ اگر ہم اسے اپنا بینک اکاﺅنٹ نمبر نہیں دیں گے تو اسکی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ ای میل شروع ہوتی ہے ایک لمبی داستان سے جس میں ایک بچے کی دکھ بھری کہانی سنائی جاتی ہے۔ وہ ای میل ”علاج کی سخت ضرورت ہے“ پر ختم ہوجانی چاہئے لیکن نہیں ای میل ابھی باقی ہے میرے دوست ۔ای میل کے آخر میں بچے کی بھلائی کیلئے ہمارا فون نمبر، پتہ، کریڈٹ کارڈ نمبر اور بینک اکاﺅنٹ نمبر سب پوچھا جاتا ہے تاکہ اس بچے کی صحت یابی اور ہمیں شاک سے لگنے والی کوئی بیماری ہمیشہ کیلئے ہوسکے۔
دوسری میل میں ہم کو خط کا مضمون لفافہ کھولنے سے پہلے ہی سمجھ آگیا یعنی ای میل کے سبجیکٹ کے مطابق کسی کو ہم سے بہت زیادہ عشق ہوچکا ہے اور وہ بے چین ہے ہمارے ای میل کھولنے کیلئے.... اب ہم 80ءکی دہائی کے عمران خان تو ہیں نہیں جو دل توڑتے پھریں اسی لئے فوراً وہ ”I Love You“ سبجیکٹ کی ای میل کھول لی لیکن ابھی تو عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، یعنی میل میں ایک فائل اٹیچ ہے جس کو کھول لینے کے بعد ہمارے کمپیوٹر کا انجام بھی عشق کے چکر میں وہی ہوگا جو ہیر رانجھا سے لیکر رومیو جولیٹ کا ہوا تھا، نہیں نہیں فلم نہیں بنے گی ہماری کمپیوٹر کی کہانی پر بلکہ اس ای میل کے ساتھ لگی فائل کو کھول لینے کے بعد ہمارے کمپیوٹر کا کام ہمیشہ کیلئے تمام ہوجائے گا۔
اگلی ای میل ایک خاتون کی ہے جو دنیا کے ایسے کونے میں ہے جس کونے پر تھوڑا آگے چلنے پر شاید دنیا ختم ہوجاتی ہے، یعنی ایسی جگہ جس کا ہم کو علم نہیں۔ وہ خاتون ہم کو اس لئے ای میل کررہی ہیں کیونکہ انکے بہت زیادہ امیر شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ہم پہلے امیر بنیں، پھر شوہر، پھر شاید انتقال پاجائیں، یعنی وہ ہم سے اپنے شوہر کی دولت اور جائیداد بانٹنا چاہتی ہیں۔ وہ اکیلی ہیں اور انہیں دنیا میں کوئی اور نہیں ملا اس لئے انہوں نے ہمیں چنا امیر بنانے کیلئے، اب ہمیں صرف معمولی سی پانچ دس ہزار ڈالر کی رقم انکے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کرنی ہوگی اور پھر وہ ہمیں لاکھوں ڈالر کا مالک بنا دیں گی۔
جیتنا کس کو نہیں پسند....؟ اور وہ بھی لاٹری، اسی لئے اگلی ای میل کرنے والے ہمارے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائیں گے، یعنی انکی لاٹری لگے گی، وہ بھی ہمارے ہاتھوں، نائیجیریا سے پاکستان کا کوئی خاص تعلق نہیں ہے لیکن روز نائیجیریا میں اس پاکستانی کی لاٹری لگتی ہے جو ہم نے کبھی خریدی ہی نہیں۔ ہر روز بتایا جاتا ہے کہ ہمارا ای میل ایڈریس اتفاق سے اس لاٹری کیلئے چنا گیا ہے۔ یہ سن کر خوشی تو بہت ہوتی ہے ہمیں لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ نائیجیریا کی کرنسی ”ناٹرا“ نہ امریکہ میں چلتی ہے نہ ہی پاکستان میں، تو پھر اتنے سارے ناٹرا ہم لیکر کریں گے کیا؟
آج کمپیوٹر کی دنیا کے سپہ سالار بل گیٹس پر سب سے زیادہ اسپیم ای میل کے حملے ہوتے ہیں یعنی دن میں چار ملین فراڈ ای میل کی گولیوں کی بوچھاڑ، انکی فوج کا حصہ ہونے کی وجہ سے یعنی انکے بنائے ای میل سسٹم استعمال کرنے کی وجہ سے کچھ گولیاں ہماری طرف بھی رخ کرتی ہیں۔ وہ کچھ ای میل جن کو کبھی کبھی قابو کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن یہ سب ای میل ہم فوراً اس ڈر سے ڈیلیٹ کردیتے ہیں کہ اگر غلطی سے سچ مچ کہیں امیر ہوگئے تو پھر ہمارا انجام بھی بیچارے ”سپہ سالار“ جیسا ہی ہوگا۔
٭٭٭