اور پھر بیاں اپنا ۔۔۔۔ قمر علی عباسی
جناب نثار کھوڑو نے ایک طویل عرصے تک جمہوریت کیلئے جنگ لڑی اور کامیاب ہوئے۔ خیال تھا اپنی جدوجہد اور پارٹی سے وفاداری کے صلے میں سندھ کا وزیراعلیٰ بنایا جائےگا۔ ان میں وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو وزیر اعلیٰ بننے کیلئے ضروری ہیں۔ ہم ان سے ذاتی طور پر واقف ہیں وہ کھلے دل کے مالک ہیں اور تیزی سے امور نمٹاتے ہیں۔ ان کی حکومت آئی تو انہیں سندھ اسمبلی کا اسپیکر بنا دیا گیا۔ انہوں نے اس عہدے کو خوش دلی سے تسلیم کیا اس لئے ہم بھی مطمئن ہیں کہ انہیں آئینی طور سے بولنے کا حق ملا ہے۔
پچھلے دنوں انہوں نے اعلان کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا لکڑی اور پتھر کا مجسمہ بنایا جائے گا جسے سندھ اسمبلی کے گیٹ پر لگایا جائے گا۔ جناب نثار کھوڑو کی یہ تجویز ان کی اپنی پارٹی سے محبت اور اپنے راہنما سے عقیدت کا اظہار ہے۔
ہم نے اس اعلان کو خوشی سے سنا لیکن اس بات پر تشویش ہوئی کہ مجسمہ لکڑی اور پتھر سے کیوں بنایا جا رہا ہے‘ اسے سونے سے بنایا جانا چاہئے تھا کیونکہ محترمہ نے جمہوریت کیلئے جو قربانی دی ہے وہ سونے سے زیادہ چمکتی ہے۔ ہم نے بنکاک میں گوتم بدھ کا ساڑھے پانچ ٹن کا اصلی سونے کا مجسمہ دیکھا ہے۔ جو سیاحوں کیلئے خاص طور سے خواتین کیلئے خاص کشش کا باعث ہے۔ وہ اسے دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں اگر محترمہ کا مجسمہ سونے کا بھی بنایا جائے تو ان کی خدمت کا صلہ نہیں ہو سکتا۔
کراچی میں سمندری ہوا کی وجہ سے لکڑی اور پتھر کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے مجسمہ تانبے یا پیتل سے بنایا جائے تاکہ موسموں کا احتساب اسے کوئی زک نہ پہنچا سکے اور یہ زمانوں سے زمانوں میں سفر کرے۔
ہمیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس مجسمے کو کون ڈیزائن کرے گا ہم مائیکل اینجلو سے متاثر ہیں ان کے بنائے ہوئے مجسمے بس لب کھولنے والے ہی ہوتے ہیں لیکن افسوس اٹلی کو سجا بنا کر مائیکل اینجلو خود ایک مجسمہ بن کر زمین میں جا سوئے اس لئے جناب نثار کھوڑو کو کوئی ایسا مجسمہ ساز بلوانا چاہئے جو محترمہ کے شایان شان مجسمہ تراشے۔ اس سلسلے میں یورپ کے ملکوں سے آرٹسٹ مدعو کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ پہلا مجسمہ ہوگا۔ اس لئے اس کی بناوٹ تراش خراش اور آرائش انتہائی کمال کی ہونی چاہئے تاکہ دیکھنے والے محسوس کریں کہ محترمہ ان کے سامنے زندہ موجود ہیں۔
مجسمہ سازی کیلئے سرمائے کی فکر نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ جمہوریت کے استحکام کیلئے سارے ملک کا سرمایہ بھی کم ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف اور امریکہ سے قرض لیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس ملک کو محترمہ کا قرض تو اتارنا ہے۔
دنیا میں وہی قومیں سربلند کر سکتی ہیں جو اپنے راہ نماﺅں کے احسان کو یاد رکھتی ہیں۔
پوری قوم کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ محترمہ کو یاد رکھا جائے ان کی جدوجہد کو کبھی فراموش نہ کیا جائے لیکن مجسمے کی جگہ پر ہمیں اعتراض ہے۔ اسمبلی کا دروازہ مناسب نہیں کیونکہ وہاں تک تو ممبران اور مخصوص لوگوں کی ہی رسائی ہوگی جبکہ محترمہ کا مجسمہ کسی ایسی جگہ لگایا جائے جو عوام و خواص، ملکی و غیر ملکی سب ہی لوگوں کو ان کی جدوجہد کی یاد دلاتا رہے جس طرح امریکہ میں اسٹیچو آف لبرٹی ہے جو اس ملک کی پہچان بن گیا ہے۔
محترمہ کے مجسمے کا نام اسٹیچو آف ڈیموکریسی ہونا چاہئے اور اسے منوڑہ کے جزیرے میں لگانا چاہئے تاکہ وہ پاکستان آنے والوں کو خوش آمدید کہہ سکیں۔
ویسٹ انڈیز کے ملک بہاماز کے ایک پارک میں انتہائی اونچائی پر کولمبس کا مجسمہ لگا ہے جو سمندر سے آنے والوں کو دیکھ رہا ہے۔ سیاح اس کو دیکھنے دور دور سے آتے ہیں۔ تصویریں بنواتے ہیں اور کولمبس کو یاد کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ جمہوریت کے دشمن پاکستان کے مخالفین محترمہ کا مجسمہ لگانے میں مداخلت کریں گے وہ نہیں چاہیں گے کہ شہید جمہوریت لوگوں کی نظروں میں رہیں اور ان کی قربانی یاد کرکے لوگ اپنے وطن اور جمہوریت سے بے انتہا محبت کریں۔
ہمارا مشورہ ہے محترمہ کا مجسمہ نیویارک میں لگایا جائے تاکہ پاکستان کا نام اس طرح بھی روشن ہو وہ اس شہر میں رہتی ہیں یہاں ان کا ایک گھر جس سے ان کی یادیں وابستہ ہیں ان سے محبت کرنے والوں سے یہ شہر بھرا ہے۔ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا دشمن نہیں نہ محترمہ کا مخالف۔
نیویارک دنیا کا صدر مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کا دفتر ہے‘ وال سٹریٹ ہے اور یہ شہر دنیا کی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے۔ محترمہ شہید کا مجسمہ پاکستان کی آن بان اور شان بڑھائے گا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ محترمہ کے سانحے کی تحقیقات کررہا ہے اور جب اس کے ممبران آتے جاتے محترمہ کا مجسمہ دیکھیں گے تو تیزی سے ایمانداری سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور پاکستان کی موجودہ حکومت اور عوام محترمہ سے سرخرو ہو جائیں گے۔