اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

ڈاکٹر شبیراحمد
صاحبو! دو اور دو پانچ ہوگئے۔ جو دس فیصد تھے سو فیصد ہوگئے۔ ملکی سیاست کا خدا کرے تیاپانچہ نہ ہو۔ خوش ہونے والے خوش نہ ہوں، پہلے تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں۔ ناراض ہونے والے ناراض نہ ہوں۔ آج کے سیاسی لیڈروں کو اہل پاکستان نے خود چنا ہے۔
اگر آصف علی زرداری خلوص نیت سے ملک کی خدمت کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہم انہیں مبارکباد کہتے ہیں۔ البتہ سب کرسی والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ قدرت کا قانون مکافات ہر لمحے ان کی نگرانی کررہا ہے۔ شیکسپیئر نے لکھا تھا، یہ دنیا ایک سٹیج ہے جس پر ہر شخص اپنی اداکاری دکھا کر رخصت ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس سے بلند تر بات کہی تھی
بے چارہ پیادہ تو ہے ایک مہرہ¿ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ
صاحبو! دنیا کی بساط پر کوئی پیادہ ہو یا سوار، قدرت کے ارادوں سے آگاہ نہیں ہوتا۔ اسی بات کو فارسی میں کہا گیا
تدبیر کند بندہ تقدیر خند زندہ
(انسان تدبیر کرتا ہے اور تقدیر اس پر ہنستی ہے)
آصف علی زرداری پاکستان کے 12 ویں صدر بن گئے ہیں۔ وہ سندھ کے ایک زمیندار اور تاجر حاکم علی زرداری کے فرزند ہیں۔ حاکم علی زرداری، ذوالفقار علی بھaٹو مرحوم کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے۔ ان کے یہاں آصف علی زرداری 1956ءمیں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس سکول کراچی میں پائی اور پھر کیڈٹ کالج پٹارو سے 1974ءمیں انٹرمیڈیٹ کیا۔ انہوں نے1968ءمیں اردو فلم ”منزل دور نہیں“ میں بطور چائلڈ سٹار اداکاری بھی کی۔ فلم فلاپ ہوئی اور اس کے ساتھ زرداری کا فلمی کیرئیر بھی ختم ہوگیا۔ 1987ءمیں بزرگوں نے زرداری اور بے نظیر بھٹو کی شادی کردی۔ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد آصف علی زرداری پر بہت سے مقدمات دائر ہوئے اور وہ گیارہ برس جیل میں رہے۔ بالآخر سب مقدمے واپس لے لئے گئے۔ ان کے تین بچے ہیں، بلاول، بختاور اور آصفہ۔ یہ تو ہیں آپ کے 12 ویں صدر۔
-1 پاکستان کے پہلے صدر تھے میجر جنرل صاحبزادہ سید سکندر مرزا۔ وہ مرشد آباد (بھارت) میں پیدا ہوئے تھے۔ متحدہ ہندوستان میں وہ اعلیٰ عہدے پر فائز مسلم آفیسر ہونے کی وجہ سے پاکستان کے سیکرٹری دفاع، پھر گورنر جنرل اور پھر صدر بنے۔ 1958ءمیں انہوں نے ملک میں مارشل لاءلگایا لیکن جنرل ایوب خان نے انہیں پیادہ بنا دیا۔ 1969ءمیں ان کی وفات لندن میں ہوئی۔ اس وقت جنرل یحییٰ خان کی حکومت نے پاکستان میں ان کی تدفین کی اجازت نہیں دی۔
-2 جنرل محمد ایوب خان ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1958ءسے 1969ءتک ملک کے حکمران رہے۔ 1964ءکے انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کو دھاندلی سے ہروا دیا گیا۔ پھر 1965ءکی جنگ میں پاکستان کی معیشت بگڑی تو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی مقبولیت کا گراف اور بھی نیچے آگیا۔ ملک میں بے چینی بڑھی تو 1969ءمیں انہوں نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کردیا۔ ایوب خان 1974ءمیں پاکستان ہی میں وفات پاگئے۔
-3 پاکستان کے تیسرے صدر تھے جنرل آغا محمد یحییٰ خان۔ ان کے دور میں بنگلہ دیش کی تحریک پروان چڑھی۔ چکوال میں پیدا ہونیوالے یحییٰ خان کو صرف دو برس تک کرسی نصیب ہوئی۔ 1971ءکی جنگ میں ڈھاکہ فال کے بعد انہوں نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کردیا اور 1980ءمیں راولپنڈی میں وفات پا گئے۔
-4 ذوالفقار علی بھٹو بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے صدر اور سویلین مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بنے۔ 1973ءمیں نئے آئین کی منظوری کے بعد وہ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم بنے۔ بعدازاں سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہنگامہ آرائی سے فائدہ اٹھا کر جنرل محمد ضیاءالحق نے 1977ءمیں بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا۔
-5 فضل الٰہی چودھری 1973ءسے 1978ءتک صدر رہے۔ پھر جنرل ضیاءالحق سے تنگ آکر مستعفی ہوگئے۔
-6 جنرل محمد ضیاءالحق 1977ءمیں مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بنے اور پھر صدر ہوگئے۔ ان کے دور میں مذہبی تنگ نظری انتہا کو پہنچی۔ خواتین اور اقلیتوں کے خلاف کالے قوانین نافذ ہوئے۔ اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ تو نہ تھا لیکن ان کا سرکاری طیارہ بہاولپور سے اڑتے ہی ہوا میں پھٹ گیا۔ کیسے؟
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
-7 غلام اسحاق خان، جنرل ضیاءالحق کی ہلاکت کے بعد وہ 1988ءسے 1993ءتک صدر رہے۔ اس سے پہلے وہ سینٹ کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومت بھی برطرف کی اور میاں محمد نوازشریف کی منتخب حکومت کو بھی چلتا کیا۔ اب جو بحران پیدا ہوا تو غلام اسحاق خان نے استعفیٰ دیکر جان بچائی۔
-8 وسیم سجاد، غلام اسحاق خان کے استعفیٰ کے بعد عبوری طور پر صدر بنے۔ بعدازاں الیکشن میں فاروق لغاری سے پٹ گئے۔
-9 سردار فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی بھرپور حمایت کے ساتھ 1993ءمیں صدر بنے لیکن تین برس بعد بے نظیر بھٹو ہی کی حکومت کو کرپشن کے الزام میں برطرف کردیا۔ 1997ءمیں میاں نوازشریف کی پارٹی نے الیکشن میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے تو میاں صاحب نے لغاری صاحب کو گھر بھیج دیا۔
-10 محمد رفیق تارڑ۔ 1997ءمیں سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ میاں نوازشریف کے پسندیدہ اور بے ضرر تارڑ صاحب 2001ءتک برائے نام صدر رہے۔ پھر جنرل مشرف نے انہیں مسجد کا امام مقرر کردیا۔
-11 جنرل پرویز مشرف، میاں محمد نوازشریف صاحب اپنے آرمی چیف کو گھر بھیجنا چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ 1999ءمیں جب مشرف بیرون ملک دورے سے واپس لوٹ رہے تھے تو طیارے کو ہوا میں چکر دیتے رہے لیکن اس سے پہلے کہ ایندھن کے ختم ہونے سے جہاز کریش ہوتا، جنرل صاحب نے وزیراعظم کو چکر میں ڈال دیا۔ ان کے ماتحت جرنیلوں نے نوازشریف حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل پرویز مشرف پہلے دو سال چیف ایگزیکٹو رہے، پھر حواریوں کے کہنے پر صدر بن گئے۔ 11 ستمبر 2001ءکی صبح جب نیویارک کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر درون خانہ گرایا گیا تو اگلی صبح پریذیڈنٹ بش کا گھبرایا ہوا فون مشرف صاحب کو پہنچا ”آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف؟“ مشرف صاحب بولے ”آپ کے ساتھ“ صدر مشرف کے آخری سات سال پاکستان کی تاریخ کے نہایت ہلچل والے سال تھے۔ ہمارے خیال میں وطن عزیز میں باغیانہ رجحان کی وجہ سے ملک ایک زیرک اور محب وطن لیڈر سے محروم ہوگیا۔
صاحبو! کرسی جیسی بے وفا شے غالباً دنیا میں کوئی نہیں۔ تو چل میں آیا، اچھا وہ جو نیک نام رہا، آپ کی نظر میں جو لیڈر نیک نام ہو ممکن ہے اوروں کی نظر میں ایسا نہ ہو۔ شاعر نے تو شراب کے بارے میں کہا تھا کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ لیکن ہم یہ بات کرسی¿ اقتدار کے بارے میں کہتے ہیں
ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ راہ گزر
چشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجور
ڈاکٹر شبیر احمد کے اردو اور انگریزی لیکچر ویڈیو پر ملاحظہ فرمائیے۔ Youtube.com/drshabbir1
٭٭٭

 


2 / 5 (1 Votes)









 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier